بالی ووڈ کا چہرہ بے نقاب! نوازالدین صدیقی نے نسل پرستی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دے دیا

Apr 27, 2026 | 15:03:PM
بالی ووڈ کا چہرہ بے نقاب! نوازالدین صدیقی نے نسل پرستی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دے دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)معروف اور سینئر اداکار نوازالدین صدیقی نے بالی ووڈ انڈسٹری میں نسل پرستی اور رنگت کی بنیاد پر امتیاز کو فلمی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فلمیں اکثر گوری رنگت کے معیار پر لکھی اور پروڈیوس کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے گندمی یا سانولی رنگت رکھنے والے فنکاروں کو مرکزی کردار کم ہی ملتے ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں نوازالدین صدیقی نے کہا کہ اگرچہ بالی ووڈ میں اقربا پروری (نیپوٹزم) پر کافی بحث ہوتی ہے لیکن ان کے نزدیک اصل مسئلہ رنگت کی بنیاد پر ہونے والا امتیاز ہے۔ ان کے مطابق ’خوبصورتی کی تعریف کسی مخصوص معیار تک محدود نہیں ہونی چاہیے یہ فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دینا چاہیے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں متوازی سنیما کے دور میں اسمیتا پٹیل اور شبانہ اعظمی جیسی باصلاحیت اداکاراؤں نے اپنی اداکاری سے ایک نئی پہچان بنائی تاہم مرکزی دھارے کی فلموں میں آج بھی زیادہ تر کردار گوری رنگت کے حامل اداکاروں کے گرد ہی گھومتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اگلے ماہ 11 چھٹیاں؟ پاکستانی عوام کیلئے خوشی کی خبر آگئی

 اداکار نے یہ بھی کہا کہ سانولی رنگت رکھنے والی خواتین کو عموماً ’اوسط‘ سمجھا جاتا ہے جبکہ مغربی ممالک میں اسی رنگت کو ’ایگزوٹک‘ یعنی منفرد اور دلکش سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سوچ فلمی نظام میں بھی گہرائی تک موجود ہے جہاں کہانیاں مخصوص جسمانی معیار کو سامنے رکھ کر لکھی جاتی ہیں۔

نوازالدین صدیقی نے مرحومہ اداکارہ اسمیتا پٹیل کو اپنی ذاتی پسندیدہ اور سب سے خوبصورت اداکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیمرے کی نظر سے خوبصورتی ایک الگ ہی حقیقت رکھتی ہے اور اصل فن اسی جمالیاتی احساس کو پکڑنے میں ہے۔

کام کے حوالے سے نوازالدین صدیقی کو حال ہی میں ’رات اکیلی ہے: دی بنسال مرڈرز‘ اور ’ٹھما‘ میں دیکھا گیا تھا جبکہ وہ آئندہ کئی فلموں جیسے ’میں ایکٹر نہیں ہوں‘، ’نورانی چہرہ‘ اور ’ٹمبڈ 2‘ میں بھی جلوہ گر ہوں گے۔