’’میں پاکستان کا فیلڈ مارشل ہوں‘‘
Stay tuned with 24 News HD Android App
میں وہ فیلڈ مارشل ہوں جو سولو فلائیٹ نہیں لیتا،پاکستان کی سیاسی قیادت کو مضبوط کرتا ہوں۔میں وہ فیلڈ مارشل ہوں جو اکیلا پرواز نہیں کرتا۔میرا یقین ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت سیاسی قیادت کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔ میں پاکستان کا آرمی چیف ہوں جو عزتِ وطن کے لیے ہر قدم اُٹھاتا ہے اور ہر فیصلہ اپنے ملک کے وقار کے نام کرتا ہے۔ میرے لیے سب سے اہم پاکستان کا استحکام، اس کے عوام کی خوشحالی اور آئندہ نسلوں کا محفوظ مستقبل ہے۔مئی 2025 میں جب معرکۂ حق کا فاتح سپہ سالار ہوا،پاکستان نے ایک نیا موڑ دیکھا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے دروازے پر اپنی دوستی کا پیغام بھیجا۔ یہ محض ایک ملاقات نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخی کامیابی اور خطے میں اس کے ابھرتے کردار کا اعتراف تھا۔ آج وزیراعظم شہباز شریف کے شانہ بشانہ صدر ٹرمپ سے ہونے والی گفتگو اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان اب دنیا کے فیصلوں میں برابر کا فریق ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات پاکستان کے لیے محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک سنگِ میل ہے،اس نے ثابت کیا ہے کہ مئی 2025 کے بعد پاکستان کی عالمی حیثیت نئی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ آج پاک امریکہ پائیدار شراکت داری کی بنیاد رکھی گئی ہے جو دو طرفہ اعتماد پر مبنی رہے گی، دونوں ممالک نے خطے میں امن،انسدادِ دہشت گردی،تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری و تعاون کے امکانات پر بات کی جو مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ ملاقات عالمی طاقتوں کے سامنے پاکستان کے مؤثر اور باوقار کردار کی تصدیق ہے اور اس پیغام کا اعادہ کہ پاکستان علاقائی استحکام اور عالمی فیصلوں میں ایک فعال اور لازمی فریق ہے۔عالمی سفارت کاری اور اتحاد کی نئی راہیں،چین گئے تو ساتھ، سعودی عرب گئے تو ساتھ، روس، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات اور ایران، ہر جگہ میرے لیے اپنی ذات نہیں پاکستان اہم ہے۔ انہی روابط کا سب سے نمایاں سنگِ میل حالیہ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ ہے جو نہ صرف مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی بلکہ جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور اسلحہ سازی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو مزید مضبوط کرتا ہے اور ہماری مسلح افواج کو نئی جہت دیتا ہے۔خارجہ پالیسی عالمی توازن کی طرف رخ لے چکی۔میں یقین رکھتا ہوں کہ سیاسی و عسکری قیادت مل کر ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے اور پاکستان کو دنیا میں نیا مقام دلا سکتی ہے اسی لیے پاکستان اب صرف ایک خطے تک محدود خارجہ پالیسی نہیں رکھتا بلکہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ، افریقہ اور ایشیا کی ابھرتی معیشتوں میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
علاقائی تنازعات میں ثالثی، اقوامِ متحدہ میں مؤثر آواز اور عالمی امن مشنز میں شراکت ہماری نئی پہچان ہیں۔پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے سفارتی دائرے کو مزید وسیع کیا ہے۔ خلیجی ریاستوں کے ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری کے نئے معاہدے،وسطی ایشیااورافریقہ کی ابھرتی معیشتوں کےساتھ تجارتی راہداریوں کی شروعات اور یورپی یونین کے ساتھ ٹیکنالوجی و ماحولیات پر تعاون پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ پالیسی اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بلکہ ایک متوازن اور کثیر جہتی خارجہ پالیسی رکھتا ہے جو قومی مفاد اور خطے کے امن کو ترجیح دیتی ہے۔پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا ہمارا عزم ہے۔ زراعت میں ہائی ٹیک اصلاحات، آئی ٹی ایکسپورٹس کو دوگنا کرنے کے منصوبے، توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وہ اہداف ہیں جو اِنشاء اللہ حاصل ہوں گے۔ یہ صرف خواب نہیں بلکہ ایک مکمل روڈمیپ ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ہماری اقتصادی حکمتِ عملی میں صنعتی شعبے کی جدید کاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے آسان فنانسنگ اور ڈیجیٹل اکانومی کی ترقی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا پاکستان سٹاک ایکسچینج کے تاریخی سطح عبور کرنے پر اظہار مسرت
سی پیک کے اگلے مرحلے سے لے کر مقامی مینوفیکچرنگ تک، ہر منصوبہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے کہ پاکستان معاشی خود انحصاری کی جانب بڑھے اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم سے کم ہو۔
میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہوں۔ میرا یقین ہے کہ جب سیاسی اور عسکری قیادت ایک ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو ملک کسی بھی بحران کو مات دے کر دنیا میں اپنی پہچان مزید روشن کر سکتا ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔