تمباکو نوشی سے پاکستان کو سالانہ 6.6 ارب ڈالر کا نقصان، 1 لاکھ 64 ہزار اموات: ڈبلیو ایچ او رپورٹ

May 26, 2026 | 19:40:PM
تمباکو نوشی سے پاکستان کو سالانہ 6.6 ارب ڈالر کا نقصان، 1 لاکھ 64 ہزار اموات: ڈبلیو ایچ او رپورٹ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو تمباکو نوشی کے باعث ہر سال 6.6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچتا ہے  جبکہ تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار افراد تمباکو سے جڑی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً ایک ہزار 800 ارب روپے سالانہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ حکومت کو تمباکو کی صنعت سے قریب 265 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حاصل ہوتے ہیں، جو مجموعی نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا رجحان بچوں اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 13 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 4 کروڑ بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد سگریٹ، نسوار اور ویپ جیسی مصنوعات استعمال کرتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تمباکو کے عادی افراد میں سے تقریباً 50 فیصد کو دل کے امراض، کینسر، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور فالج جیسے خطرناک مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے سفارش کی ہے کہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر ٹیکس میں مزید اضافہ کیا جائے اور مؤثر عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔

 رپورٹ میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ رواں سال 31 مئی کو پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : فیفا ورلڈکپ: سپین نے اپنی تاریخ کے انوکھے سکواڈ کا اعلان کر دیا