حریت رہنماؤں کا کشمیری خواتین کو سخت سزائیں سنانے پر احتجاج، بھارتی عدالتی فیصلے کی مذمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پاکستان اور آزاد کشمیر میں موجود حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور پاکستان کے امور کشمیر کے وزیر نے بھارت میں کشمیری خواتین کو آزادی کی صدا بلند کرنے کی پاداش میں تیس تیس سال قید کی سزائیں دیئے جانے پر سخت احتجاج کیا ہے اور بھارت کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے آج اسلام آباد میں حریت رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔ امیر مقام نے کہا، بھارت کی عدالت نے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی، ناہیدہ نسرین، اور فہمیدہ صوفی کو 30، 30 سال قید سنائی ہے۔ ہم اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اوراسے مسترد کرتے ہیں۔ بھارتی عدالتیں مودی کے مذموم عزائم کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی بات کرنے پر سزائیں سنانے سے بھارتی چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہوا ہے ۔ ایسے فیصلوں سے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا ۔
امیر مقام نے کہا، بڑی تعداد میں خواتین شہید، اور بیوہ ہوئیں، 10 ہزار سے زائد مکانات تباہ کیے گئے، میں کشمیریوں کے جذبے کی داد دیتا ہوں ، جو کئی دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں، آج بھی آزادی کی جدوجہد جاری ہے، مساجد کو بھی تالے لگائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑحیئے: عوام کو پٹرول، ڈیزل سستا فراہم کرنے کیلئے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سو ارب روپے فراہم کر دیئے
حریت کانفرنس کے رہنما غلام محمد صفی نے اس پریس کانفرنس مں کہا، آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں کے بارے میں جو فیصلہ آیا ہے کہ ہم اسکی مذمت اور مسترد کرتے ہیں۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑی ۔
غلام محمد صفی نے بتایا کہ عدالت نے اس الزام کو مسترد کر دیا، لیکن پھر انکو سزا اس لئے سنا دی گئی کہ انہوں نے کہا جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔

خاتون حریت رہنما شمیم شاد نے پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا، کشمیر کی خواتین کی جدوجہد دنیا میں اپنی مثال ہے۔ خواتین کو قید بامشقت دی گئی ہے۔ یہ بھارت کی عملی بے بسی کا اظہار ہے۔ وہ کشمیری خواتین کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام رہا اور ان سے اتنا خوفزدہ ہے کہ تیس تیس سال تک انہیں جلوں میں رکھنے کے درپے ہے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔