فوری جنگ بندی کے ساتھ مذاکرات؛ امریکہ کی 15 تجاویز الجزیرہ نیوز سامنے لےآیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) قطر کی نیوز آؤٹ لیٹ الجزیرہ نیوز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی جنگ بندی پلان کی تفصیل اور ایران کی شرائط کی تفصیل یکجا کر کے اپنی ویب سائٹ پر شائع کر دی۔ آج شام بعد میں ایران نے امریکہ کی ان تجاویز کو "نا مناسب" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی ایران کی ہی شرائط پر ہو گی۔
الجزیرہ نیوز نے صدر ٹرمپ کے پندرہ نکات کو "امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات اور پیشکشیں" قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اوراسرائیل کے مطالبات اور پیشکشیں ہیں۔
جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے کیا مطالبات ہیں؟
امریکی تجاویزمسترد،ایران نے جنگ بندی کیلئے 5 شرائط رکھ دیں
حملوں اور رہنماؤں کے قتل کا خاتمہ کیا جائے۔
دوبارہ جنگ نہ کرنے کی یقین دہانی دی جائے۔
نقصانات کے ازالے اور ہرجانے کی ادائیگی کی جائے۔
خطے میں جاری لبنان، فلسطین جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے خود مختار اختیار حق کی ضمانت دی جائے۔
الجزیرہ نیوز نے بتایا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو پہنچایا گیا۔ اسلام آباد نے کل ہی رسمی طور پر یہ بتایا تھا کہ پاکستان امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
امریکہ کے 15 نکاتی پلان کی پہلی تجویز مذاکرات کے دوران ایک ماہ کی جنگ بندی
الجزیرہ اور امریکی اور اسرائیلی خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ نے ایران کو جو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا، اس میں ایک تجویز یہ ہے کہ جب دونوں فریق پاکستان کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے شرائط پر بات چیت کا آغاز کرتےہیں تو جنگ ایک ماہ کے لئے بند کر دی جائے گی۔
الجزیرہ نیوز نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ امریکہ، ایران، اسرائیل یا ثالثی کرنے والے ممالک میں شامل کسی بھی فریق نے 15 نکاتی منصوبے کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی۔ لیکن اسرائیل کے چینل 12 نے جو کچھ کہا وہ اس منصوبے کے اجزاء تھے۔ بہت سی تجاویز اس سے ملتی جلتی ہیں جس کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے کہا ہے۔
الجزیرہ نے اسرائیل کے نیوز چینل 12 کی بیان کردہ تجاویز کے متعلق لکھا، ان کے مبینہ طور پر کچھ اہم عناصر میں شامل ہیں:
30 دن کی جنگ بندی۔
نطنز، اصفہان اور فردو میں ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنا۔
ایران کی جانب سے کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کے مستقل عزم کا اظہار۔
ایران کے پہلے سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا، اور ایران کی جانب سے یہ عزم کہ IAEA کو ملک کے باقی ماندہ جوہری انفراسٹرکچر کے تمام عناصر کی نگرانی کرنے کی اجازت دی جائے۔ ایران کو ملک کے اندر یورینیم کی افزودگی بھی نہیں کرنی چاہیے۔
ایران کے میزائلوں کی رینج اور تعداد کی حدود مقرر کرنا۔
علاقائی پراکسیوں کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا۔
علاقائی توانائی کی تنصیبات پر ایرانی حملوں کو ختم کرنا۔
آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا۔
اقوام متحدہ کے میکنزم کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایران پر عائد تمام پابندیوں کو ہٹانا جو پابندیاں دوبارہ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔
ایران کے بوشہر سول نیوکلیئر پلانٹ میں بجلی کی پیداوار کے لیے امریکی مدد کی فراہمی۔
آج شام تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات کو کس حد تک منظور کرتا ہے۔آج بدھ کے روز ہی، الجزیرہ نے بتایا تھا کہ کہا کہ "بند دروازوں کے پیچھے"، اسرائیل امریکہ کے پیش کردہ 15 نکات سے اتفاق کرتا ہے، لیکن اسے "اس بات کی فکر ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ بندی کو حاصل کرنے کے لیے کتنا سمجھوتہ کریں گے"۔
الجزیرہ نیوز نے رپورٹ کیا، "انہیں خدشہ ہے کہ یہ 15 نکات ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر کام کر سکتے ہیں اور اس سے پہلے ایک ماہ کی جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ یہ قبول کر سکتے ہیں کہ ان کے کچھ نکات پر اتفاق کیا جائے گا [لیکن] ان سب پر نہیں۔"
یہ بھی پڑھیئے: ایران نے امریکہ کی شرائط مسترد کر دیں، دفاع جاری رکھنے کا اعلان
جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی مطالبات کیسے بدلے ہیں؟
کچھ - جیسے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق - ایک جیسے ہیں۔
ٹرمپ کا "بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت" کا گمان جو غلط نکلا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان "بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت" ہوئی ہے جس کا مقصد اس ہفتے جنگ کو ختم کرنا ہے۔ تاہم ایران نے مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں ایرانی رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ "خود سے مذاکرات کر رہا ہے"۔
یہ جنگ، جس کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کے دوران کیا تھا، اس کی قیمت بہت زیادہ ثابت ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں آئل اینڈ گیس کی مارکیٹ اور سٹاک مارکیٹوں کو نقصان پہنچا، اس جنگ سے جہاز رانی میں خلل پڑا اور مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں ایران کے براہ راست حملوں سے مسلسل ہلاکتیں ہوئیں۔
ایرانی وزارت صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، منگل تک، صرف ایران میں 1,500 افراد ہلاک اور 18,551 زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کرنے کے چند دن بعد، ملک کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے اس نے صرف چند ملکوں کے بحری جہازوں کی ایک چھوٹی تعداد کو گزرنے کی اجازت دینا شروع کر دی ہے - ان میں خاص طور پر ہندوستانی، پاکستانی اور چینی پرچم والے بحری جہاز شامل ہیں۔
اس جنگ کے دوران خلیجی خطے میں امریکی فوجی اثاثوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی حملوں کے ساتھ مل کر، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئیں، اس کے مقابلے میں جنگ سے پہلے کے برینٹ کروڈ کی قیمت - بین الاقوامی معیار - تقریبا$ 65 ڈالر تھی۔
بدھ کو ٹرمپ انتظامیہ کے 15 نکاتی جنگ بندی کے منصوبے کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد، عالمی سٹاک کی قیمتوں میں قدرے اضافہ ہوا (بہتری آئی)جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی(بہتری آئی)۔ لیکن اس بہتری کے ساتھ مبصرین کا کہنا ہتھا کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ بات چیت بالکل ہو رہی ہے اور اگر واقعی ہو رہی ہے تو کیا دونوں فریق کامیابی کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں جب کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے مطالبات اب تک الگ ہیں۔
جمعرات تک جنگ بندی کے آغاز کی توقع ٹوٹ گئی، امریکہ کی دوسری آپشن مزید جنگ!
پاکستان، مصر اور ترکی امریکہ اور ایران کے درمیان کل جمعرات تک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امن اجلاس کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ آج شام ایران کے انکار سے یہ توقع پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
ایران کے انکار سے پہلے واشنگٹن میں صحافی بتا رہے تھے کہ امریکی انتظامیہ امن مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ جنگ کی بھی تیاری کر رہی ہے،"
بعض صحافیوں نے امریکہ کی 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے مشرق وسطیٰ میں 3000 امریکی فوجیوں کی متوقع تعیناتی کی خبر کا حوالہ دیا۔
ایران جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ کے مطالبات کیا رہے
الجزیرہ نیوز نے لکھا کہ جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران، امریکہ نے نطنز، اصفہان اور فردو جوہری مقامات پر حملہ کیا۔ یہ افزودگی کی سہولیات ہیں، جہاں یورینیم کو اس سطح تک افزودہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کے قابل ہو جائے۔
جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی شرائط کے تحت، جس پر ایران نے 2015 میں دیگر ممالک کے ساتھ اتفاق کیا تھا، اس نے پہلے ہی یورینیم کو شہری استعمال کی سطح سے زیادہ افزودہ نہ کرنے کا عہد کر رکھا تھا اور وقتاً فوقتاً معائنہ کیا جاتا تھا۔ تاہم، ٹرمپ نے تین سال بعد یکطرفہ طور پر امریکہ کو اس معاہدے سے نکال دیا۔
بوشہر، جس پاور پلانٹ کو امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 15 نکاتی منصوبے میں مدد فراہم کرے گا - یہ تہران سے تقریباً 750 کلومیٹر (465 میل) جنوب میں واقع ہے۔ یہ ایران کا واحد کمرشل ایٹمی پاور پلانٹ ہے۔ اسے روس میں تیار کردہ یورینیم سے چلایا جاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جنگ کے دوران امریکہ کے دیگر مقاصد بدل گئے ۔ جہاں امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر توجہ مرکوز کی تھی، وہیں انہوں نے موجودہ جنگ کے دوران ایران میں حکومت کی تبدیلی پر بھی زور دیا۔
جنگ کا آغاز ہی آیت اللہ خامنہ ای کے کمپلیکس پر حملے سے کیا گیا۔ 28 فروری کو یہ حملہ ہوا اور دوسرے دن ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران میں ان کے دفتر میں قتل کر دیا گیا ہے۔
ایک ہفتے بعد، خامنہ ای کے دوسرے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا، اس فیصلے سے واشنگٹن ناخوش تھا۔
نئے سپریم لیڈر کی تقرری کے بعد، ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو بتایا، "میرے خیال میں انہوں نے ایک بڑی غلطی کی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ جاری رہے گا یا نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔"
تاہم، امریکہ نے مذاکرات کے لئے جود تجاویز پیش کین اس 15 نکاتی منصوبے میں حکومت کی تبدیلی کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ اس دوران منگل کے روز ہی یہ ہوا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خود وضاحت کر دی کہ ایران مین انہیں جس قدر ریجیم چینج کرنا تھی وہ ریجیم چینج ہو چکی ہے۔ وہ موجودہ حکومت کو تبدیل شدہ ریجیم قرار دے کر مزید کسی کوشش سے دستبرداری کا اظہار کر رہے تھے۔
ایران نے کیا ردعمل ظاہر کیا؟
ایرانی رہنماؤں کا کل منگل ے روز بھی یہ کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔ آج بدھ کے روز اسلام آباد سے یہ بتایا گیا کہ ایران نے رسمی طور پر امریکہ کے پیش کردہ پندرہ نکاتی منصوبے کو مستردس کر دیا ہے اور اپنی پانچ شرائط ہی مانے جانے پر اصرار کیا ہے۔
ایران کی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتا، جس نے گزشتہ دو سالوں میں جاری مذاکرات کے دوران ایران پر دو مرتبہ حملہ کیا ہے۔
"کیا آپ کی اندرونی جدوجہد کی سطح اس مرحلے تک پہنچ گئی ہے کہ آپ [ٹرمپ] اپنے آپ سے مذاکرات کر رہے ہیں؟" ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے اعلیٰ ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے بدھ کے روز ایران کے سرکاری ٹی وی پر امریکی صدر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
"ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے۔"
"جیسا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے … ہم جیسا کوئی بھی آپ سے ڈیل نہیں کرے گا۔ ابھی نہیں، کبھی نہیں۔"
ایران اور اسرائیل نے بدھ کو ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان حملوں کے دوران پہلی مرتبہ اسرائیل کے بجلی گھر کے قریب ایرانی میزائل گرنے کی اطلاع سامنے آئی۔
جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے کیا مطالبات ہیں؟
جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہتا، ایران کے پاس امن کے لیے کچھ شرائط ہیں۔
11 مارچ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایرانی شرائط پیش کیں۔
ایک ایکس پوسٹ میں، پیزشکیان نے لکھا کہ اس نے روس اور پاکستان میں اپنے ہم منصبوں سے بات کی ہے، اور "امن کے لیے ایران کے عزم" کا اعادہ کیا ہے۔
پیزشکیان نے لکھا: "اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ - صیہونی حکومت اور امریکہ کی طرف سے بھڑکائی گئی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کر لیا جائے، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں۔"
اس کے ساتھ ایران یہ بھی چاہے گا کہ اس کے خلاف تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں۔
مزید برآں، ایران کے سرکاری پریس ٹی وی نے ہفتے کے آخر میں ایک ایرانی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ تہران خطے میں تمام امریکی فوجی اڈوں کو بند کرنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹرانزٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا قانونی طریقہ کار تلاش کر رہا ہے جو آبی گزرگاہ پر اس کے حقیقی کنٹرول کو باقاعدہ بنائےگا۔
یہ بھی پڑھیئے: متحدہ عرب امارات جاننا چاہتا ہے کہ ہماری ضرورت کے وقت کس کی کیا پوزیشن ہے، ڈاکٹر انور غرغاش