وفاقی آئینی عدالت نے ریٹائرڈ ملازم کی پنشن واجبات کی درخواست خارج کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)وفاقی آئینی عدالت نے ریٹائرڈ ملازم غلام عباس کی پنشن واجبات کی درخواست خارج کر دی ،جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے تحریری فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کا حکم برقرار رکھا ۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہاکہ وفاقی محتسب کو سرکاری ملازمین کے ذاتی سروس معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں،سروس معاملات اور ذاتی ملازمت کے تنازعات کیلئے قانون کے تحت مخصوص فورمز موجود ہیں،وفاقی محتسب کے قیام کا مقصد صرف انتظامی بدعنوانی کی تحقیقات ہے،وفاقی محتسب سروس معاملات کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔
آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی ادارے کی رضامندی یا خاموشی سے کسی فورم کو وہ اختیار نہیں مل سکتا جو قانون میں موجود نہ ہو،سرکاری افسر کی یقین دہانی سے وفاقی محتسب کو وہ قانونی اختیار نہیں مل سکتا جو قانون میں موجود نہیں،وفاقی محتسب کا حکم قانوناً کالعدم تھا،صدرِ پاکستان کا توثیقی حکم بھی وفاقی محتسب کے غیر قانونی فیصلے کو قانونی نہیں بنا سکتا،وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر احکامات ہائیکورٹ آرٹیکل 199 کے تحت کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ٹیلیفون انڈسٹریز پاکستان نے محتسب کے فیصلے کیخلاف صدر پاکستان کو اپیل کی تھی ،صدرِ پاکستان نے اپیل زائد المیعاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی تھی ۔
درخواست گزارکا موقف تھا کہ صدر کی جانب سے اپیل خارج ہونے کے بعد محتسب کا فیصلہ حتمی ہو چکا۔ٹی آئی پی کے ریٹائرڈ ملازم غلام عباس نے پنشن کے واجبات اور الاؤنس نہ ملنے پر وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا ۔وفاقی محتسب نے ملازم کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے پنشن مسائل حل کرنے کا حکم دیا تھا۔پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کے فیصلے کو دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آپ رمضان پیکج 13 ہزار کے اہل ہیں یا نہیں؟ جانیے