یونان پاکستانیوں کے لئے ورک ویزا کی تعداد بڑھانے پر آمادہ ہو گیا، اللیگل امیگریشن کو مل کر روکیں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) یونان پاکستانیوں کے لئے ورک ویزا کی تعداد بڑھائے گا۔ پاکستان اور یونان نے قانونی مائیگریشن کی حوصلہ افزائی اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لئے جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ دونوں ملک غیر قانونی امیگرنٹس کو روکنے کے لئے مل کر اقدامات کریں گے۔
اٹلی کے دارالحکومت روم میں یونان کے مائیگریشن اور سیاسی پناہ کے وزیر اتھاناسیس پلیورس اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعاون کے لئے اہم فیصلے ہوئے۔
اس ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک کے ذمہ دار رہنماؤں نے قانونی مائیگریشن کے فروغ کیلئے باہمی اشتراک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
محسن نقوی نے یونان کے امیگریشن کے وزیر اتھاناسیس پلیورس کو اس بات پر قائل کیا کہ قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کے لئے یونان پاکستانیوں کے لئے ورک ویزا کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔
اس ملاقات میں پاکستان اور یونان کے درمیان 2 برس سے زیر التوا مائیگریشن تعاون معاہدہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ یہ اہم فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاکستان اور یونان کے درمیان باہمی تعاون کے لئے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔
یونان کے وزیر مائیگریشن نے غیرقانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کے لئے پاکستان کے اقدامات کو سراہا ۔
پاکستان سے ہر سال ہزاروں لوگ غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر نکل کر ویزا اور قانونی دستاویزات کے بغیر یونان میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محسن نقوی نے وزیر داخلہ بننے کے بعد پاکستان سے انسانی سمگلنگ کا نیٹ ورک اکھاڑنے اور ہیومن سمگلرز کو گرفتار کر کے سزائیں دلوانے کے لئے ایف آئی اے اور دیگر لا انفرسنگ ایجنسیوں کو ٹاسک دیا اور سینکڑوں ہیومن ٹریفکرز کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائے۔ خاص طور سے "ڈِنکی" کے ذریعہ پاکستانیوں کو سمگل کر کے یونان اور دوسرے یورپی ملکوں میں پہنچانے والوں کے لئے پاکستان کی زمین تنگ کر دی۔روم میں یونان اور پاکستان کے امیگریشن اور دیگر متعلقہ امور کے فیصلہ ساز وزرا محسن نقوی اور اتھاناسیس پلیورس نے غیر قانونی امیگریشن اور ہیومن سمگلنگ کے جرائم کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے مستقبل میں دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہم پاکستان میں پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی پیشہ وارانہ استعداد کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی بیسڈ آپریشنز کے لئے یونان کی معاونت کا خیر مقدم کریں گے۔
محسن نقوی نے کہا، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے لیگل مائیگریشن کے لیے اشتراک بڑھانا وقت کا تقاضا ہے۔
انہوں نے یونانی وزیر کو بتایا کہ پاکستان نے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
یونانی وزیر مائیگریشن اتھاناسیس پلیورس نے کہا کہ پاکستان سے قانونی طریقہ سے یونان آنے والوں کی لیگل مائیگریشن کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔
محسن نقوی اپنے ساتھ پنجاب پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل اور اب ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور، پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر احسن یونس، پولیس کے سینئیر آفیسرز سہیل چوہدری اور عابد خان کو بھی اٹلی لے کر گئے ہیں۔ یہ سب متعلقہ آفیسر روم میں یونان کے وزیر اتھاناسیس پلیورس کے ساتھ اہم ملاقات میں بھی موجود تھے۔
پنجاب پولیس کے افسران نے گریک وزیر کو پولیس خدمت مراکز سے لے کر ہیومن ٹریفکنگ روکنے ک اور ہیومن سمگلرز کے منظم نیٹ ورک توڑنے کے لئے کئے جا رہے آپریشنز کے متعلق بریفنگ دی۔ گریک وزیر مائیگریشن نے ان اقدامات کی تحسین کی۔
اٹلی میں پاکستانی سفیر علی جاوید بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔





