دیوانی مقدمات میں مداخلت پر پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے سی سی پی او پشاور کی سرزنش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک رحمان)پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کو سخت اور واضح احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ پولیس دیوانی نوعیت کے زیرِ التوا مقدمات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کو ایسے معاملات میں تھانوں میں طلب کرنا یا ان پر دباؤ ڈالنا غیر قانونی عمل ہے، اور آئندہ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ فیصلہ جسٹس فرح جمشید اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل بینچ نے شفقت اللہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن پر سنایا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایک زیرِ سماعت دیوانی مقدمے میں پولیس نے مداخلت کی، حالانکہ سی سی پی او کو آگاہ کیا گیا تھا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ غور ہے۔ اس کے باوجود درخواست گزار کو ہراساں کرنے اور دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی۔
درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ پولیس نے بعض کیسز میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کے نام پر بااثر فریق کا ساتھ دیا، جبکہ کمزور فریق کو تھانوں میں بلا کر دباؤ ڈالا گیا۔ عدالت نے ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح کیا کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیرِ التوا ہو تو پولیس کا اس میں کوئی کردار نہیں رہتا اور ایسی مداخلت اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔
فیصلے میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جسے مبینہ طور پر ایک فریق کے حق میں دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، عدالت نے کہا کہ زیرِ التوا مقدمات کو زبردستی ڈی آر سی میں لے جانا عدالتی دائرہ اختیار کو نظرانداز کرنے کے برابر ہے اور یہ عدالتی اختیار میں مداخلت تصور ہوگی۔
عدالت نے سی سی پی او کے علاوہ ایس ایس پی آپریشنز فرخان خان، ڈی ایس پی احسان مروت، ایس ایچ او پھندو جاوید مروت اور ایڈیشنل ایس ایچ او فضل جان کے طرزِ عمل پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ ایسے اقدامات سے باز رہنے کی سخت ہدایت دی۔
یہ بھی پڑھیں :حکومت فوری طور پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے: حافظ نعیم الرحمٰن