طوطا ٹیکس لاگو۔۔شوقین اور میاں مٹھو بڑی مشکل میں پڑ گئے

Sep 24, 2025 | 18:52:PM
طوطا ٹیکس لاگو۔۔شوقین اور میاں مٹھو بڑی مشکل میں پڑ گئے
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) بڑوں اور بچوں کا پسندیدہ پرندہ طوطا پالنا نہایت مشکل ہو گیا ہے، بے چارہ طوطا جو پہلے ہی مہنگائی کے مارے لوگوں  کےہاتھوں سے دیسی گھی سے تیار کردہ ’’چورا یا  چوری‘  کھانے سے محروم ہو گیا تھا اور اب حکومت اس کے پیچھے پڑ گئی ہے اور  اس نے طوطا پالنے والوں پر لائسنس کی فیس  عائد کر دیا ہے، اب طوطا صرف کھلے باغات میں صرف امرود کھا کر گزار کرے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ وہ کھانے کے چکر میں باغ کے مالی کے ہاتھوں غلیل جیسے ظالم ہتھیار کا نشانہ بن جائے اور ملک عدم روانہ ہو جائے۔

 طوطے پالنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ  اگر کوئی میاں مٹھو  کو پالنا چاہے تو پہلے حکومت سے باضابطہ لائسنس لینا ہوگا۔ حکومت پنجاب نے اہم قانون متعارف کرا دیا ہے۔حکومت پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف نے یہ فیصلہ مقامی طوطوں کی بقا، ان کے غیر قانونی شکار اور تجارت روکنے کے لیے کیا ہے اور طوطے پالنے کے خواہشمند افراد کو باقاعدہ رجسٹریشن فیس ادا کرنا لازمی ہوگی۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے چار اقسام کے طوطوں پر ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس مقرر کی ہے۔ یہ طوطے الیگزینڈرائن، رنگ روز، سلیٹی اور پلم ہیڈڈ ہیں۔ جن افراد نے پہلے سے طوطے پالے ہوئے ہیں، انہیں بھی لائسنس کے لیے رجسٹریشن کرانا ہوگی۔محکمہ وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بنائے گئے قانون میں مزید پالیسیوں پر کام جاری ہے۔ رجسٹریشن کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے معدوم ہوتے پرندوں کی تعداد معلوم ہوگی اور ان کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا آسان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:اعظم سواتی کی بیرون ملک سفر پر پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ