ڈوپلیکیٹ سم کے ذریعے شہری کے اکاؤنٹ سے 85 لاکھ روپے نکلوا لئے گئے

Oct 24, 2025 | 12:50:PM
ڈوپلیکیٹ سم کے ذریعے شہری کے اکاؤنٹ سے 85 لاکھ روپے نکلوا لئے گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ڈوپلیکیٹ سم نکلوا کر شہری کے اکاؤنٹ سے 85 لاکھ روپے نکلوانے کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا، اہم انکشافات سامنے آگئے۔

این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں کئی حقائق سامنے آئے ہیں جس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے سے نجی بینک کے او ٹی پی ویری فکیشن، اینٹی فراڈ میکنزم پر سوالات اُٹھتے ہیں۔

این سی سی آئی اے رپورٹ میں بتایا گیا کہ بائیومیٹرک تصدیق کے بغیر ڈوپلیکیٹ سم جاری ہوئی، جس کے بعد نجی بینک سے 85 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 29 ستمبر رات 7 سے 8 بجے کے درمیان سنی کمار ڈالمین مال کراچی میں تھا، 29 ستمبر کی رات سنی کمار کی موبائل فون کی سم اچانک بند ہوگئی، سنی کمار موبائل کمپنی کی فرنچائز گیا تو حیدرآباد سے ڈوپلیکیٹ سم کا پتہ چلا۔

حیدرآباد سے نکالی گئی موبائل فون سم نجی بینک کے ساتھ لنک تھی، ڈوپلیکیٹ سم سے 100 سے زائد ٹرانزیکشن میں 85 لاکھ روپےنکالےگئے۔

یہ بھی پڑھیں:مرغی کا گوشت  فی کلو کتنے کا؟نیا ریٹ سامنے آ گیا

این سی سی آئی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ نکالے گئے 85لاکھ روپے مختلف اکاؤنٹس میں بھیجے گئے، نجی بینک انتظامیہ کے نمائندے تفتیش میں پیش ہوئے۔ 

نجی بینک نے اب تک اہم شواہد فراہم نہیں کیے، موبائل کمپنی کی انتظامیہ نے بھی کیس کے متعلق شواہد نہیں دیے، نجی بینک انتظامیہ سے اکاؤنٹ کی تفصیلات اور ٹرانزیکشنز کی معلومات مانگی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق لاگ اِن، لوکیشن، آئی ایم ای آئی، آئی پی ایڈریس، انٹرنل فائنڈنگ کی تفصیل مانگی گئی، 14 اکتوبر تک نجی بینک انتظامیہ نے ہمیں ادھوری معلومات دیں۔

این سی سی آئی اے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نجی بینک انتظامیہ سے ڈیجیٹل بینکنگ اسپیشلسٹ کا سوال بھی پوچھا گیا تھا، کال لاگ تفصیلات مانگیں، بینک کو ایس او پی تفصیلات بھی دینے کا کہا، نجی موبائل کمپنی سے بائیومیٹرک تصدیق کی ڈیوائس کی تفصیل مانگی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:آئندہ ہفتے؟وزیر تعلیم نے طلبا کو بڑی خوشخبری سنا دی

موبائل کمپنی سے یہ بھی کہا ڈوپلیکیٹ سم جاری کرنے والی فرنچائز کے مالک کی تفصیل دیں، ڈوپلیکیٹ سم خریدنے والے کی شناخت کی تفصیلات بھی مانگی گئیں۔

این سی سی آئی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت سائبر فنانشل فراڈ کیا گیا ہے، ڈیجیٹل بینکنگ سسٹم میں فراڈ، غیرقانونی طور پر موبائل سم ایکٹو کی گئی۔