ایران آبنائے ہرمز کھولے گا، امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم کرے گا، معاہدہ کی مزید تفصیل سامنےآگئی

May 24, 2026 | 23:50:PM
 ایران آبنائے ہرمز کھولے گا، امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم کرے گا، معاہدہ کی مزید تفصیل سامنےآگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔  ایران آبنائے ہرمز کھولنےپر  تیار ہے اور امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ 
امریکی میڈیا مجوزہ معاہدے کی جو تفصیلات سامنےلےآیا ہے اس کے مطابق  ایران اپنے سخت موقف سےپیچھےہٹنے کوتیار ہے۔ معاہدہ طےپانےکی صورت میں ایران  آبنائے ہرمز کو  کھول دے گا اور یہاں سے گزرنے والے کسی جہاز سے کوئی ٹول ٹیکس نہیں مانگے گا۔

امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔ایران کو آزادنہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت ہو گی ۔

نیوز ویب سائٹ ایکسئیس نے  بتایا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی شامل ہے۔

تاہم ابھی تک کسی باضابطہ معاہدے کی نوبت نہیں آئی۔ امریکی حکومت کے عہدیدار کے حوالے سے اسرائیل کے نیوز چینل 12 نے یہ رپورٹ کیا کہ ایران کے ذخائر میں موجود  تمام افزودہ یورینیم  ڈسپوز آف کرنا (ضائع کر دینا) معاہدہ کا لازمی ھصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افزودہ یورینیم کو ڈسپوز آف کرنا معاہدہ میں شامل ہے، امریکی عہدیدار 

دوسری طرف ایرانی میڈیا  مین یہ رپورٹ ہوا ہے کہ مجوزہ معاہدے پر اب  ’ایک یا دو‘ نکات پر اختلافات موجود ہیں۔

امریکہ کے  وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج  کہا کہ مذاکرات میں ’نمایاں‘ پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ ابھی ’حتمی‘ نہیں۔

مارکو روبیو نے یہ  بتایا  صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج مزید کوئی اعلان کر سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے البتہ کوئی اعلان نہیں کیا بلکہ یہ بتایا کہ وہ اپنے مذاکرات کاروں سے معاہدہ کرنے میں جلدی نہ کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ کل ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدہ زیادہ تر طے پا چکا ہے۔ 

 صدر ٹرمپ نے کل ہی بتایا تھا کہ مجوزہ  معاہدے میں آبنائے ہرمز کا بھی ذکر موجود ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

آبنائے ہرمز کو کھولنے پر ایران نے عارضی جنگ بندی کے معاہدہ پر  8 اپریل کو آغاز سے پہلے بھی اقرار کیا تھا لیکن عملاً آبنائے ہرمز کبھی نہیں کھولی، اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والی تمام بحری ٹرانسپورٹ کو روک دیا اور ایران کی طرف جانے والے تمام بحری جہازوں کو بھی راستے میں روک لیا۔ 

یہ بھی پڑھیئے: اپنے نمائندوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلدی نہ کریں: امریکی صدر ٹرمپ
  یہ بھی پڑھیئے:  ایران آج بھی پہلے کی طرح ثابت قدم اور ناقابلِ شکست ہے:صدر مسعود پزشکیان 

 ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایرانی میڈیا آؤٹ لیتس کو رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز ’جنگ سے پہلے کی صورتحال‘ میں واپس نہیں جائے گی، البتہ جہازوں کی آمدورفت سابقہ سطح پر بحال کر دی جائے گی۔

28 فروری کو امریکہ اور ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے کوئی بھی بحری جہاز ، آئل کنٹینر اور کشتی کسی کی پوچھ گچھ کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزر کر آ اور جا سکتی تھی۔