افزودہ یورینیم کو ڈسپوز آف کرنا معاہدہ میں شامل ہے، امریکی عہدیدار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایک اہم امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ معاہدے پر دستخط آنے والے دنوں میں ہوں گے، لیکن آج نہیں۔ ایران ساری افزودہ یورینیم کو ' ڈسپوز آف' کرنے کے لیے تیار ہے۔ افزودہ یورینیم کو ضائع کر دینا معاہدہ کا حصہ ہے۔
اسرائیل کے چینل 12 کی خبروں کے مطابق، ایک سینئر امریکی اہلکار نے ابھی صحافیوں کو بریف کیا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر "آنے والے دنوں میں" دستخط کیے جائیں گے، حالانکہ آج نہیں، اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے شرائط کو "ایک عام معاہدہ" دیا ہے۔
پھر بھی، جب تک یہ نہیں ہو جاتا، کچھ نہیں کیا جاتا، اہلکار نے مبینہ طور پر واضح کیا۔ یہ اہلکار واضح طور پر امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے کل بتائی گئی مفاہمت کی یادداشت کا حوالہ دے رہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ابتدا مین یہ کہا تھا کہ معاہدہ تقریباً تیار ہے، انہوں نے کئی دوست ملکوں کے رہنماؤں کو فون کر کے بھی کچھ تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد آج شام پہلے صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں سے کہا ہے کہ معاہدہ کرنے میں جلدی نہ کریں، اب امریکی اہلکار نے سینئیر صحافیوں کو بتایا کہ افزودہ یورینیم کو ڈسپوز آف کرنا معاہدہ کا حصہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ایرانیوں نے زبانی اور تحریری طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کے بعد ہونے والے کسی بھی مستقل معاہدے میں اب تک افزودہ کی جا چکی تمام یورینیم، خواہ وہ بھی کسی بھی سطح پر انریچ کی گئی ہے، اسے ڈسپورز آف کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ذخیرہ گاہوں میں پڑی ہوئی یورینیم کے ذخائر کو کیسے ڈسپوز آف کیا جائے گا۔
اسرائیل کے چینل 12 ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانیوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو ایک مدت کے لیے معطل کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: اپنے نمائندوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلدی نہ کریں: امریکی صدر ٹرمپ
یہ بھی پڑھیں: ایران آج بھی پہلے کی طرح ثابت قدم اور ناقابلِ شکست ہے:صدر مسعود پزشکیان