ٹرمپ نے جنگ کو خدا حافظ کہا یا ایرانی بحریہ کو؟ دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی

May 24, 2026 | 20:47:PM
 ٹرمپ نے جنگ کو خدا حافظ کہا یا ایرانی بحریہ کو؟ دنیا میں نئی بحث چھڑ گئی
کیپشن: صدر ٹرمپ کی آج ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کا عکس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  صدر ٹرمپ نے Truth Social پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس کے کیپشن میں "Adios" لکھا ہے۔ یہ تصویر ایرانی نیوی کی تباہی کے بارے میں ہے۔ اس پوسٹ  نے سوشل میڈیا پر اور امریکی میڈیا میں شدید نوعیت کے مباحثے اور قیاس آرائیوں پر مبنی  کو جنم دیا ہے۔  سپینش زبان کے لفظ ایڈیوس کا معنی  گڈ بائی، الو۳داع ہے۔  ایرانی بحریہ کی تباہی کی تصویر کے ساتھ اس کیپشن کا دنیا بھر میں مختلف مطلب اخذ کیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیآج  24 مئی کو ٹروتھ سوشل  پر "Adios" پوسٹ نے عالمی اور امریکی میڈیا چینلز پر شدید عوامی بحث اور قیاس آرائی پر مبنی کوریج کو جنم دیا ہے۔ اس پوسٹ میں AI سے تیار کردہ ایک امریکی ڈرون کی تصویر پیش کی گئی ہے جو شعلوں میں لپٹے ہوئے ایرانی بحریہ کے ایک جہاز کو تباہ کر رہا ہے، اس کے ساتھ ایک لفظی عنوان "Adios" ہے۔

Adiós سپینش  لفظ ہے جس کا مطلب  "الوداع" یا "خدا حافط/گڈ بائی" کہنا ہے۔ اس ایک لفظی کیپشن کے ساتھ ایرانی بحریہ کی تباہی کی تصویر  پر مشتمل اس پوسٹ نے آج اہم الجھن پیدا کی ہے کیونکہ یہ امریکہ اور ایران کی سفارت کاری کی موجودہ حالت سے براہ راست متصادم ہے۔ جس طرح تصویر کا اشتراک کیا گیا، رپورٹس منظر عام پر آئیں کہ واشنگٹن اور تہران ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے قریب ہیں- جس میں 60 دن کی جنگ بندی میں توسیع، حزب اللہ اور اسرائیل کی مجوزہ  جنگ بندی، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔


سوشل میڈیا پر پڑھنے والوں کا ردعمل
عوامی اور آن لائن  پڑھنے والوں کا ردعمل بہت زیادہ پولرائزڈ ہے، جو ایران امریکہ جنگ کی زمینی صورتحال اور صدر  ٹرمپ کے حقیقی ارادوں کے بارے میں گہری قیاس آرائیوں کی عکاسی کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے حامی اس پوسٹ سے خوش ہوئے

حامی ("میڈ مین تھیوری" الائنمنٹ): MAGA کے حامیوں اور قدامت پسند مبصرین نے اس پوسٹ کو کلاسک ٹرمپین "غیر متوقع صلاحیت کے ذریعے طاقت" کی نمائش کے طور پر بڑے پیمانے پر خوش آمدید  کیا ہے۔ وہ اسے ایک حکمت عملی "حتمی انتباہ" کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ  ایران کی ریجیم ایک سازگار معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور ہو۔


ٹرمپ کے ناقدین اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار

 ٹرمپ کی عمومی پالیسیوں اور ایران جنگ مین ان کے فیصلوں کے ناقدین اور جیو پولیٹیکل ماہرین نے اس پوسٹ کے حوالے سے  بہت زیادہ خطرے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ وہ پوسٹ کو "مفید"، "عجیب" اور خطرناک طور پر نتیجہ خیز کے طور پر لیبل کرت رہے ہیں اور   انتباہ  کر رہے  ہیں کہ من گھڑت، جارحانہ فوجی تصویری پوسٹ کرنے سے  نازک،  ہائی سٹیک امن مذاکرات پٹری سے اتر  بھی سکتے ہیں۔


سوشل میڈیا کنفیوژن

سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ سے وابستگی نہ رکھنے والو اور ایران امریکہ تنازعہ میں کوئی خاص پوزیشن نہ رکھنے والے عام صارفین صدر ٹرمپ کی اس پوسٹ کے سامنے آنے کے  وقت کی وجہ سے شدید الجھن کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ پوسٹ خفیہ مذاکرات میں رکاوٹ پر  صدر ٹرمپ کی مایوسی کی نمائندگی کرتی ہے یا ٹرمپ صرف تنازعہ کے دوران ایران کی بحری صلاحیتوں کو تاریخی طور پر ختم کرنے پر  اپنے فخر کو دہرا  رہے ہیں۔


امریکی اور بین الاقوامی میڈیا اس پوسٹ کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں
مین سٹریم کے ذرائع ابلاغ نے اس پوسٹ کے ساتھ چھان بین، سٹریٹجک تجزیہ، اور احتیاط کی آمیزش کی ہے:
اہم  میڈیا آؤٹ لیٹس پہلے ہی صدر  ٹرمپ کے جارحانہ سوشل میڈیا بیانات اور جاری امن مذاکرات کی اصل حقیقت کے درمیان بالکل تضاد پر زور دیتی  رہی ہیں۔ یہ آؤٹ لیٹسآج صدر ٹرمپ کی اس پوسٹ کے ھوالے سے  نوٹ کر رہی ہیں کہ جب کہ خود صدر ٹرمپ کے وزیر دفاع، پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ فوجی مقاصد کو بڑھانے کے خواہاں نہیں ہے، ٹرمپ کی پوسٹس بالکل مخالف پیغام کی نشاندہی کرتی ہیں۔


مذاکرات میں دباؤ کے حربے کے طور پر اس کا تجزیہ 

 ٹائمز آف انڈیا جیسی بھارتی نیوز آؤٹ لیٹس اور ILTV جیسے پلیٹ فارمز پر نمایاں جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں نے "Adios" پوسٹ کو جان بوجھ کر نفسیاتی جنگ کی حکمت عملی کے طور پر  ٹریٹ کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ٹرمپ ایک "اچھی  پولیس، بری پولیس" کی حکمت عملی کا استعمال کر رہے ہیں - اپنے سفارت کاروں کو جنگ بندی پر بات چیت کرنے کی اجازت دے رہے ہیں جبکہ وہ کھلے عام دھمکی دیتے ہیں کہ اگر ایران پیچھے ہٹتا ہے تو وہ مکمل تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

بہت کم میڈیا ٓاؤٹ لیٹس نے یہ نوٹ کیا کہ ایران میں بھی  کئی اہم لوگ امن مذاکرات میں  بات کو حتمی جنگ بندی ڈاکیومنٹ کی ڈرافٹنگ تک جانے کے باوجود آبنائے ہرمز کو بدستور ایرانی کنٹرول میں رکھنے اور ہار نہ ماننے جیسے بیانات تسلسل کے ساتھ دے رہے ہیں۔  بیشتر ایرانی رہنما جنگ میں امریکہ کو شکست کھایا ہوا قرار دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں ٹرمپ کا ایرانی بحریہ کو تباہ کرنے کی کامیابی کا ایک بار پھر ذکر کرنا  قابل فہم بھی ہے۔


آرٹیفیشل انٹیلیجنس الیوسٹریشن کے استعمال  اور غلط معلومات کا زاویہ

کئی نیوز آؤٹ لیٹس نے واضح طور پر نشاندہی کی ہے کہٹرمپ کی پوسٹ کی ہوئی تصویر مکمل طور پر AI سے تیار کی گئی ہے۔ میڈیا کے تجزیہ کار بیانیہ کو کنٹرول کرنے اور عوامی امیج کو پیش کرنے کے لیے فعال فوجی تعطل کے دوران من گھڑت ڈیجیٹل امیجری پر ٹرمپ کے بہت زیادہ انحصار کو اجاگر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: اپنے نمائندوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلدی نہ کریں: امریکی صدر ٹرمپ
  ٹرمپ کے بعض ناقد ایرانی بحریہ کو تباہ کر دیئے جانے کے صدر ٹرمپ اور امریکی فوجی کمان کے عمومی دعوے پر سوال کرتے بھی نطر آ رہے ہیں۔ ان ناقدین نے خاص طور سے آبنائے ہرمز کی عملاً بندش کو ایرانی بحریہ کی تباہی کے دعووں سے متصادم صورتحال قرار دیا ہے۔ یہ ہی تنقید آج ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ایرانی بحریہ کو تباہ کرنے کے دعوے کے پیچھے اس تلخ حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور ایران کے کنٹرول میں ہے۔ 

ٹائمنگ کا ایشو

صرف ایک دن پہلے،  کل ہفتہ کے روز  صدر ٹرمپ نےسوشل میدیا پر  پوسٹ کیا تھا کہ امن کے لیے مفاہمت کی یادداشت طے پا گئی ہے۔

صدر نے کل واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ آج وہ نئے سرے سے یہ جتلا رہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ کے ساتھ کیا کیا۔ 

بعض لوگ اس پوسٹ کو  ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پبلک اعلان کے ساتھ جوڑ کر یہ دیکھ رہے ہیں کہ کل اور آج کی پوسٹوں مین تسلسل موجود ہے۔ آج کی پوسٹ سے ٹرمپ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کی جنگ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ اور یہ کہ اب  جنگ ختم ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: شدید گرمی کہاں کہاں پڑے گی؟ تھنڈر سٹارم کہاں کہاں آئے گا؟ میٹ ڈیپارٹمنٹ کی فورکاسٹ آگئی