ہیٹ ویو و نے تلنگانہ میں چوبیس گھنٹوں میں  16 جانیں لے لیں، مشرقی پنجاب کے ہسپتالوں میں ہیٹ ویو ایمرجنسی

May 24, 2026 | 18:18:PM
 ہیٹ ویو و نے تلنگانہ میں چوبیس گھنٹوں میں  16 جانیں لے لیں، مشرقی پنجاب کے ہسپتالوں میں ہیٹ ویو ایمرجنسی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  بھارت میں گرمی کی لہر نے درجنوں شہروإں اور لاکھوں دیہات کو گرفت میں لے لیا۔ مشرقی پنجاب کے ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک کے حاص یونٹ فعال کر دیئے گئے۔ ہریانہ، پنجاب، دیلی، راجستھان آج سے زیادہ شدید گرمی کی زد میں آ گئے۔، صرف ایک ریاست تلنگانہ میں چوبیس گھنٹوں میں ہیٹ اسٹروک سے  کم از کم 16 افراد جاں بحق ہو گئے۔ کل سے ہیٹ ویو پاکستانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی آ رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق  طبی اداروں کی جانب سے  عوام کو گرمی کی لہر سے خود کو بچانے کے بار بار انتباہ کے باوجود لوگ ہیٹ سٹروک سے مر رہے ہیں۔ بھارت کے بہت سے علاقے اس وقت  ہیٹ ویو کی لپیٹ میں  ہیں اور کل پیر کے روز یہ ہیٹ ویوو لاہور اور وسطی پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی پہنچ جائے گ۔ بھارت میں حالی ہہیٹ ویوو (گرمی کی لہر) کی زد میں آ کر ہزاروں افراد ہیٹ سٹروک کا شکار ہو چکے ہیں۔   ہیٹ سٹروک کی وجہ سے  16 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

 اگرچہ  گرمی کے مہینوں میں شدید گرمی پڑنا  جنوبی ایشیا کے لوگوں کے لئے  کوئی اجنبی فنامنا نہیں ہے لیکن حالیہ سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ماضی میں آنے والی ہیٹ ویوو کی شدت کو بڑھا چکی ہے اور اب آ رہی ہیٹ ویووز  (گرمی کی لہروں) کا دورانیہ بھی کچھ زیادہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:   لاہور میں ہیٹ ویوو کی آمد، شہری احتیاط کریں 

 حالیہ سالوں کے دوران رہن سہن کے انداز میں تبدیلیاں، سڑکوں پر ٹریفک کی پیدا کی ہوئی اضافی گرمی اور حبس بھی گرمی کی لہروں کے دوران انسانوں کو زیادہ نشانہ بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ 

بھارت اور پاکستان کی  بہت سے شہر کئی دنوں سے ہیٹ ویوو کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: ہیٹ ویوو کے دوران ہیٹ سٹروک ہونے کا پتہ کیسے چلتا ہے؟

  مئی کے تیسرے ہفتے میں کئی شہروں میں درجہ حرارت حال ہی میں 45 ڈگری سیلسیس سے اوپر جا  رہا ہے۔ پاکستان کی سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ٹمپریچر  49 ڈگری تک بھی ریکارڈ کیا گیا۔

بھارت میں اموات کہاں کہاں ہوئیں

بھارت میں مئی کے حالیہ ہفتے کے دوران شدید ترین ہیٹ ویوو کے باعث  جنوبی، وسطی اور شمالی حصوں میں متعدد ہلاکتیں اور  ہزاروں ہیٹ اسٹروک کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی ریاستوں اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ 

تلنگانہ میں چوبیس گھنٹوں میں 16 جانیں گئیں

بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں گرمی کی لہر کے سبب ہیٹ سٹروک کے واقعات میں اضافہ ہوا اور  اموات کی اطلاع ملی۔ تلنگانہ  میں حالیہ 24 گھنٹوں کے دوران  شدید گرمی اور لو لگنے سے کم از کم 16 افراد کی  موت ہو جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔  

 وزیر محصول پونگولیٹی سری نواسا ریڈی نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے "ریاست گیر چوکسی" کا مطالبہ کیا۔

آندھرا پردیش

ریاست کے محکمہ صحت کے مطابق مئی کے مہینے میں ہیٹ اسٹروک کے 325 سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں،  کئی اموات رپورٹ ہوئیں اور  ہسپتالوں میں درجنوں مریضوں کی حالت  تشویشناک رہی ہے تاہم بروقت علاج مل جانے کی وجہ سے اکثر جانیں بچا لی گئیں۔
  
 دہلی

دارالحکومت دہلی کے سرکاری اسپتالوں میں بھی ہیٹ اسٹروک کے انتہائی تشویشناک مریض داخل ہیں اور وہاں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
وزارتی دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ گرمی کی شدت غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

آج ہیٹ ویوو کی کیا کیفیت ہے؟

جنوبی علاقوں مین آفت کا سماں پیدا کرنے کے بعد اب ہیٹ ویو بھارت کے شمالی علاقہ کی طرف بڑھ گئی ہے۔

بھارت کے شمالی میدانی علاقے، وسطی اور مشرقی حصے اس وقت "آگ کی بھٹی" بنے ہوئے ہیں اور انڈیا ٹوڈے (India Today) کی رپورٹ کے مطابق ملک کے بیشتر شہر دنیا کے گرم ترین مقامات میں پہلے نمبروں پر آ چکے ہیں۔


پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور دہلی

پاکستانی پنجاب سے ملحق مشرقی پنجاب ، اس کے ساتھ راجستھان، ہریانہ اور دہلی میں آج اتوار (24 مئی) سے ہیٹ ویو کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ میدانی علاقوں میں چلنے والی جھلسا دینے والی گرم ہواؤں (لو) کے باعث درجہ حرارت 44°C سے 47°C کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔  بھارت مین ان ریاستوں کو شمالی ریاستیں شمار کیا جاتا ہے۔

اتر پردیش (UP) اور مدھیہ پردیش

مشرقی یوپی کے اضلاع کے لیے حکومت نے ریڈ الرٹ (Red Alert) جاری کر رکھا ہے۔ وسطی بھارت کے علاقوں (جیسے ودربھ اور مدھیہ پردیش) کے لیے اورنج الرٹ (Orange Alert) برقرار ہے جہاں  ٹمرپیچر 49°C تک پہنچنے کی پیشگوئی ہے۔ 

مشرقی ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک مینیجمنٹ یونٹ  اور ہیٹ سٹروک ایمرجنسی
وسیع علاقوں میں شدید گرمی کی وجہ سے دی ہندو (The Hindu)  کی رپورٹ کے مطابق مشرقی  پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں خصوصی "ہیٹ سٹروک مینجمنٹ یونٹس" متحرک کر دیے گئے ہیں۔

دہلی اور اطراف کے علاقوں میں شدید گرمی اور پانی کی کمی کے باعث پرندے (جیسے کبوتر اور چیلیں) فضا سے بے ہوش ہو کر زمین پر  گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔  


مرتے کو مارے شاہِ مدار؛ گرمی کی لہر میں بجلی کا بحران

ائیر کنڈیشنروں  اور ائیر کولرز  اور زیادہ بجلی کھانے والے عام پنکھوں کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے بھارت میں بجلی کی طلب ملکی تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔   بعض علاقوں مین اچانک بجلی کے شٹ ڈاؤن کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
 بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق یہ شدید ترین ہیٹ ویو و مئی کے اختتام (28 سے 29 مئی) تک اسی طرح برقرار رہے گی اور شہریوں کو دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک کھلے آسمان تلے نکلنے سے سخت منع کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  سندھ بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر برقرار، آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟