ہیٹ ویوو کے دوران ہیٹ سٹروک ہونے کا پتہ کیسے چلتا ہے؟

May 24, 2026 | 17:23:PM
 ہیٹ ویوو کے دوران ہیٹ سٹروک ہونے کا پتہ کیسے چلتا ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) لاہور اور وسطیٰ پنجاب میں کل سے ہیٹ ویوو (گرمی کی لہر) شروع ہو رہی ہے۔ سخت گرمی میں چند منٹ ہی رہنے سے حساس افراد کو ہیٹ سٹروک ہو سکتا ہے۔ لاہور کے شہریوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ  ہیٹ سٹروک ہونے کی علامات کیا ہوتی ہیں اور کیسے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو ہیٹ سٹروک ہو چکا ہے۔ 

ہیٹ سٹروک سے بچنے کے لئے اور ہیٹ سٹروک ہو جانے کے بعد جان بچانے کے لئے کیا ضروری اقدامات کرنا چاہئیں،  یہ طبی ماہرین وقتاً فوقتاً بتاتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہیت سٹروک کی علامات سے بھی شہریوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔  لیکن یہ روزمرہ زندگی مین بہت کم پیش آنے والی صورتحال ہے اس لئے  بیشتر لوگ ہیٹ سٹروک کی علامات کو یاد نہیں رکھ پاتے۔

ہیٹ اسٹروک کی  کچھ ایسی علامات بھی ہیں جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔

گزشتہ کئی سال سے دنیا بھر میں  گرمی بڑھتی جا رہی ہے اور پاکستان میں تو خاص طور سے گرمی کے تین چار مہینوں کے دوران  قیامت خیز گرمی پڑتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر اور عمومی موسمی بدلاؤ کی وجہ سے پاکستان کے میدانی علاقوں میں اب ہیٹ ویوو/ گرمی کی لہریں زیادہ تواتر کے ساتھ آنے لگی ہیں۔  اب بھی میٹ ڈیپارٹمنٹ نے کل  25 مئی سے 30 مئی تک لاہور میں ہیٹ ویوو رہنے کا خدشہ بظاہر کیا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ہیٹ ویوو آئے تو کھلے آسمان تلے موجود ہر انسان کو ہیٹ سٹروک ہی ہو۔ البتہ موسم میں اچانک بدلاؤ اور گرمی گزشتہ دنوں کی نسبت اچانک بڑھ جانے کی وجہ سے بعض لوگ بڑھی ہوئی گرمی سے خود کو بچانے کے لئے مناسب احتیاط نہیں کر پاتے،ایسے میں ان کو ہیٹ سٹروک ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک کیا ہے

 سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کی ہیٹ سٹروک ہوتا کیا ہے۔  گرمی کی شدت سے انسانی جسم کے، خاص طور سے دماغ کے متاثر ہو جانے  کو ہیٹ اسٹروک کہتے ہیں، ایسا ا ہو جائے تو  متاثر ہونے والے انسان کا جسم اپنے ٹمپریچر کو  کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کی حرارت تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ انسانی جسم نارمل صورتحال میں اپنا ٹمپریچر   37°C (سیلسیس)  پر رکھتا ہے۔  یہ ٹمپریچر  فارن ہائیٹ اسکیل پر 98.6°F کے برابر ہے.

   کچھ صورتوں میں کچھ انسانوں کے جسم کا نارمل ٹمپریچر 37 سے کچھ کم بھی رہ سکتا ہے اور اس سے معمولی زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر انسان کا نارمل ٹمپریچر خود اسی کو معلوم ہونا چاہئے۔ طبی مارین کے مطابق  ایک صحت مند انسان کے جسم کا ٹمپریچر دن بھر ایک جیسا نہیں رہتا اور اس کی ایک مخصوص حد (Range) ہوتی ہے:


نارمل رینج

عام طور پر یہ درجہ حرارت 36.1°C سے 37.2°C (97°F سے 99°F) کے درمیان گھومتا رہتا ہے اور اسے بالکل نارمل سمجھا جاتا ہے.

 ہیٹ سٹروک کے بعد جسم کا ٹمپریچر بڑھتا ہے

انسان اگر 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ گرم ماحول میں رہیں تو جسم خود کو از خود  بیرونی ماحول سے ٹھنڈا رکھنے کا انتظام کرتا رہتا ہے۔ پسینہ اس کا ایک عام ٹول ہے۔ اگر بیرونی ماحول میں حرارت بہت زیادہ ہو اور انسان کا جسم اس حرارت کے آگے مسلسل ایکسپوز رہے تو یہ حرارت جسم کے اعضا خاص طور سے دماغ کے نارمل افعال کو متاثر کرتی ہے اور کئی دوسرے مسائل کے ساتھ ایک خطرناک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کا خود کو از خود ٹھنڈا کرنے کا نظام مناسب پرفارم نہیں کر پاتا اور جسم کے اندر کے اعضا کا ٹمپریچر بڑھنے لگتا ہے۔ ٹمپریچر برھنے سے ان کی نارمل پرفارمنس  میں گڑبڑ ہونے لگتی ہے اور باہر سے دیکھنے پر کئی علامات نطر آنے لگتی ہیں۔۔

سر درد اور تھکاوٹ؛ ہیٹ سٹروک کی وہ خاموش علامات جنہیں لوگ زیادہ تر نظرانداز کردیتے ہیں

اچانک شدید تھکاوٹ اور سر میں درد ہونا ہیٹ سٹروک کی بہت عمومی علامت ہے۔ لوگ ہیٹ سٹروک ہونے کے بعد سر مین درد کی دوسری وجہ تلاش کرتے ہیں یا اسے بس سر درد سمجھ کر توجہ ہی نہیں دیتے، یہ خاص وقت میں ہوا سر درد دراصل ہیت سٹروک کی علامت ہے اور اس علامت پر بروقت توجہ دے کر شدید نوعیت کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔  

اسی طرح اچانک نقاہت طاری ہونا، کمزوری مھسوس ہونے لگنا بھی ہیٹ سٹروک کی علامت ہے۔ اگر آپ شدید گرمی مین رہے ہیں یا اب بھی موجود ہیں اور اچانک کمزوری اور نقاہت محسوس کرنے لگے ہیں تو یہ بھوک اور توانائی کی کمی نہیں بلکہ ہیٹ سٹروک ہے جو آپ کو ہو چکا ہے۔ بچنے کے لئے فوری اقدام کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ہیٹ ویوو کی آمد، شہری احتیاط کریں 

 ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات کو لوگ یہ سوچ کر نظر انداز کردنے کی غلطی کر دیتے ہیں کہ شاید تھکاوٹ ہوگئی ہے یا پانی کی کمی پا پھر معمول کا سردرد ہے۔

 تھکاوٹ اور سر درد کے ساتھ ساتھ اگر بخار جیسی کیفیت ہو تو یہ ہیت سٹروک کے اثرات بڑھنے کی نمایاں علامت ہے کیونکہ جسم کا خود کو ٹھنڈا کرنے کا نظام مکمل فلاپ ہو چکا ہے اور گرمی جسم کے اندرونی اعضا سے  پھیل کر اب باہر بھی نمایاں محسوس ہونے لگی ہے۔

متلی اور قے

اچانک متلی ہونا اور  قے آنے جیسی کیفیت بھی ہیٹ سٹروک کی ہی علامت ہے کیونہ جسم کا نظام نارمل ٹمپریچر سے زیادہ ٹمپریچر میں رہنے کی وجہ سے  اپنے معمول کے کام انجام دینے میں ناکام ہو رہا ہے اور معدے میں  خوراک کو باہر نکال دینے کا میکنزم متحرک ہو رہا ہے۔

 شدید گرم ماحول میں متلی اور قے کی کیفیت  ایک سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

جسم میں درد کی کیفیت

ماہرین صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگر جسم کا درجہ حرارت 40  ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوجائے اور پٹھوں میں درد بھی ہونے لگتا ہے۔ یہ خاص وقت ہوا درد محض پٹھوں کی کمزوری، کوئی وزنی کام کرنے یا تھکاوٹ کی وجہ سے نہین بلکہ جسم کے اندر نظام مین ٹوٹ پھوٹ بڑھ جانے کی خطرناک سورتحال کی ایک بلنٹ علامت ہے۔ اس علامت کو کسی ژخص مین پائیں تو اسے ہیٹ سٹروک کے اثر سے نکالنے کی فوری تدبیر کرنے کے ساتھ جلد از جلد ہسپتال تک پہنچائیں۔

گرم اور خشک جلد

جلد خشک دکھائی دینے لگے اور بخار کی کیفیت جیسی گرم محسوس ہو رہی ہے تو ی ہبھی ہیٹ سٹروک کی نمایاں علامت ہے۔


دل کی دھڑکن بڑھنا

بلڈ پریشر اور کئی دوسری وجہوں سے بھی دل کی دھڑکن بڑھتی ہے لیکن جب سخت گرم ماحول میں رہے ہوں اور  ہیٹ سٹروک  کی دوسری علامات بھی نطر آ رہی ہوں تو دل کی بڑھی ہوئی اور بے ترتیب دھڑکن انتہائی خطرناک علامت ہے، اس کا  عام بلڈ پریشر سے نہیں بلکہ ہیٹ سٹروک کے زیادہ شدید اثر سے تعلق ہے۔ ایسی صورت میں متاثرہ فرد کو فوری طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

دل کی دھڑکن تیز ہونے کے ساتھ ساتھ بے ہوشی جیسی کیفیت احساس خطرے کی گھنٹی ہے۔

ہیٹ اسٹروک کا  خطرہ سب سے زیادہ کن افراد کو ہوتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسے تو ہر فرد ہیٹ سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے تاہم کچھ لوگ ہیٹ اسٹروک سے جلدی متاثر ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچے اور بوڑھے اور ایسے افرادجن کا جسم درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہتا ہے، ان میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور، دل کی بیماری یا ذیابیطس جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے بیمار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ہیٹ سڑوک  کے اثرات سے کیسے  نکلیں

لاہور شہر مین ہیں تو جلد از جلد ہسپتال پہنچیں۔ ہسپتال سے دور ہیں تو متاثرہ فرد کو ٹھنڈے ماحول میں لے جائیں۔ اس کو  مناسب ٹھنڈا لیکویڈ پلائیں۔ جسم کا ٹمپریچر کم کرنے کے لئے وہی اقدامات کریں جو عمومی بخار بڑھنے کی صورت میں کئے جاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: سندھ بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر برقرار، آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟