سری لنکا :پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
مشرق وسطیٰ جنگ کے معیشت پر اثرات سامنے آنے لگے،سری لنکا میں پیٹرول کی قیمت 317 سے بڑھ کر 398 سری لنکن روپے مقرر کر دی گئی جبکہ ڈیزل کی قیمت 78 روپے اضافے سے بڑھ کر 382 روپے ہو گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)مشرق وسطیٰ جنگ کے معیشت پر اثرات سامنے آنے لگے، سری لنکا میں پیٹرول کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہو گیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا میں پیٹرول کی قیمت 317 سے بڑھ کر 398 سری لنکن روپے مقرر کر دی گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سری لنکا میں ڈیزل کی قیمت 78 روپے اضافے سے بڑھ کر 382 سری لنکن روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 11 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، برینٹ آئل کی قیمت 12 ڈالر کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تیل کی قیمت 10 ڈالر کم ہوکر 88 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
علاوہ ازیں عالمی سطح پر تیل کا بحران سر اُٹھانے والا ہے ، سپلائی لائن ہر گزرتے دن کے ساتھ متاثر ہو رہی ہے ، حکومتی وزیر نے پہلے جھٹکے کی پیشگوئی کر دی ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران تیل سے آگے بڑھ کر عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے، تیل کا جھٹکا پہلا مرحلہ ہے، اصل بحران ابھی سامنے آنا ہے۔
ایک بیان میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ کھاد، سلفر اور پیٹرو کیمیکل تجارت میں رکاوٹ سے صنعتوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی پولی ایتھیلین ترسیل متاثر ہونے سے پلاسٹک، ربڑ اور الیکٹرونکس صنعتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر تو بنالیے مگر کھاد اور ادویاتی خام مال کے لیے کوئی نظام موجود نہیں، مسلسل بحرانوں کا مرکز یہی چوک پوائنٹ ہے، جس کے لیے دنیا نے کبھی تیاری نہیں کی، بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ خفیہ سپلائی چین میں شامل اہم خام مال کی بندش عالمی غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، خلیجی ممالک یوریا تجارت کے نصف حصے کے ذمے دار ہیں، سپلائی رکی تو فصلیں شدید متاثر ہوں گی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ سعودی پائپ لائن صرف تیل منتقل کرتی ہے، امونیا اور صنعتی گیسوں کےلیے کوئی متبادل نہیں بنایا گیا، خوراک، صحت اور جدید ٹیکنالوجی کا بنیادی خام مال ہرمزکے تعطل سے تباہ کن دباؤ کا شکارہے، ان کا کہنا تھا کہ درآمدات پر منحصر معیشتوں کےلیے تیل کا جھٹکا پہلا مرحلہ ہے، اصل بحران ابھی سامنے آنا ہے، کھاد اور ادویات کی قلت کا طوفان توانائی بحران سے کہیں زیادہ شدید ثابت ہوگا۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں مستحکم ہوسکتی ہیں مگر فصلوں کا کیلنڈر کسی کے انتظار کا پابند نہیں ہوتا، عالمی پالیسی سازوں کو شور سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا کہ بحران کا اگلا دھماکہ کس سمت ہوگا، ہرمز کا تعطل طویل ہوا تو خوراک، ادویات اور ٹیکنالوجی کی عالمی قیمتیں نئے ریکارڈ بناسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، چند منٹوں میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 240 پوائنٹ بڑھ گیا۔
مارکیٹ کیپ میں 20 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا، لیکن ایران کے مذاکرات کی تردید آتے ہی ایس اینڈ پی انڈیکس 120 پوائنٹ گر گیا اور 10 کھرب ڈالر کی کمی آئی۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کی پھر موجیں!تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں اضافہ