کالعدم ایکشن کمیٹی کے بنیادی ارکان انتشاری پالیسیوں سے نالاں، تقسیم نمایاں ہوگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی متعدد کور ارکان نے اس گروہ کی پالیسیوں سے لاتعلقی اختیار کر لی۔
کالعدم گروہ کے کور ارکان کی علیحدگی کالعدم JAAC کے اندر بڑھتے ہوئے انتشار اور باہمی بے اعتمادی کو ظاہر کر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ راجہ امجد علی، انجم زمان اور افتخار زمان کی لاتعلقی نے JAAC کے اندر پالیسیوں پر اختلاف اور تقسیم کو بے نقاب کر دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کور رکن میرپور رضوان کرامت کی علیحدگی کالعدم JAAC کے لیے بڑا نقصان ہے۔ کالعدم گروہ کی انتشاری حکمتِ عملی اپنے ہی ارکان کے لیے ناقابلِ قبول بن گئی اور انتشار ؟خود کالعدم گروہ کے اندر سرایت کر گیا۔
عوامی حقوق کے نام پر انتشار پھیلانے کی سیاست اندر سے مسترد ہو رہی ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال اور کاروباروں کی جبری بندش کی پالیسی نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ اب عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مشکلات میں دھکیلنے والی سیاست کی خود اس کے بنیادی ارکان مخالفت کر رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کالعدم JAAC کی قیادت پر عوامی مسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی سامنے آ رہا ہے۔ متعدد بنادی ارکان کے پیچھے ہٹ جانے کے عمل نے JAAC کے عوام کی نمائندگی کے دعوے پر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے۔
اب کالعدم گروہ کے ارکان خود کہہ رہے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کسی جمہوری احتجاج کا حصہ نہیں ہو سکتے۔
کشمیر کے عام شہریوں کی طرف سے اب واضح طور پر عوامی حقوق کی آڑ میں ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے کی کوششوں اور کالعدم JAAC کے پاکستان مخالف بیانیہ کو کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت نواز بیانیے کو تقویت دینے والی سیاست کو کشمیری عوام سے کھلی زیادتی قرار دیا جا رہا ہے۔
کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام امن، قانون اور مذاکرات کے راستے کے حامی ہیں، انتشار کےحامی نہیں ہیں۔
یہ بھی پرھیں: کشمیر کے متعلق جو بات کی دلیل سے کی، اپنے بیان پر قائم ہوں، خواجہ آصٖف
آزاد کشمیر کے سمجھدار سیاسی حلقوں نے JAAC کی بندش اور تصادم کی سیاست کو عوام دشمن قرار دے دیا ہے اور اس طرز عمل پر کئی پہلوؤں سے تنقید کی جا رہی ہے اور مقاصد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ عوامی حقوق کا راستہ مذاکرات سے طے ہوتا ہے۔ یہ کام اگر کسی کو واقعی کرنا ہو تو یہ صرف امن اور قانون کےتابع رہ کر ہوتا ہے۔ سڑکوں کی بندش سے صرف بلیک میلنگ اور انتشار جیسے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ کشمیری عوام کو یرغمال بنانے کی سیاست اب مزید قبول نہیں۔
پاکستان مخالف ایجنڈا کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں، یہ کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہے۔ کالعدم JAAC کی داخلی ٹوٹ پھوٹ اس کی انتشاری پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پرھیں: ایران کے فیفا ورلڈ کپ میں 32 کے راؤنڈ میں پہنچنے کا راستہ؛ مصر اور بیلجئیم کیلئے امکانات کیا ہیں؟