تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، عالمی منڈی میں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

Jun 24, 2026 | 09:21:AM
 تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، عالمی منڈی میں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز ایک فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی، جس کے باعث قیمتیں گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں، اس کمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خلیج فارس میں پھنسے مزید آئل ٹینکرز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے تیل کی ترسیل کے بارے میں خدشات کم ہوئے ہیں۔

 برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت 1.37 ڈالر یا 1.8 فیصد کمی کے ساتھ 75.71 ڈالر فی بیرل تک گر گئی،دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.08 ڈالر یا 1.5 فیصد کمی کے بعد 72.13 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

منگل کے روز بھی دونوں بینچ مارک تقریباً ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے اور مارچ کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق خلیج فارس سے مثبت اشارے ملنے کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر آ جائے گی  اگرچہ جہازوں کی آمدورفت میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔

تیل کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک اور وجہ امریکا کی جانب سے ایران کو 60 روزہ پابندیوں میں نرمی دینا ہے، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی مارکیٹ کے خدشات کم کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران جوہری پروگرام کے مکمل جائزے پر رضامند ہوگیا: امریکی صدر کا دعویٰ

مٹسوبشی یو ایف جے ریسرچ اینڈ کنسلٹنگ کے سینئر ماہر اقتصادیات تومومیچی آکوتا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی کی توقعات نے خام تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر جوہری مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوئی تو قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ سکتی ہیں۔

عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات سے متعلق مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران بحری گزرگاہ استعمال کرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔

تاہم جنگ بندی اور مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مستقل جوہری معائنوں پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ تہران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

ادھر جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز تین بڑے سپر ٹینکر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے، اقوام متحدہ کے بحری ادارے نے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد خلیج میں پھنسے تقریباً 11 ہزار ملاحوں اور سیکڑوں جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے انخلا کا منصوبہ جاری ہے۔

مزید پڑھیں:خوشیاں ماتم میں تبدیل!3 بچے نہر میں ڈوب گئے

امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے اعداد و شمار کے مطابق 19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا کے خام تیل کے ذخائر 7 لاکھ 65 ہزار بیرل کم ہوئے، جبکہ ماہرین نے اوسطاً 45 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کی بحالی اور امریکا-ایران مذاکرات کی پیش رفت عالمی تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کرے گی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 رپورٹس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 62 روپے فی لیٹر کمی ہو سکتی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 238 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔

 تاہم حتمی فیصلہ حکومت آئندہ قیمتوں کے جائزے میں کرے گی جس کا اعلان جمعہ کے روز کیا جائے گا۔