خبردار! کسی خاتون نے سمارٹ فون استعمال کیا، پنچایت کا چونکا دینے والا فیصلہ

Dec 24, 2025 | 10:33:AM
خبردار! کسی خاتون نے سمارٹ فون استعمال کیا، پنچایت کا چونکا دینے والا فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)راجستھان کے ضلع جالور کے ایک گاؤں کی پنچایت نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے 15 دیہات میں بہوؤں اور نوجوان خواتین کے سمارٹ فون بالخصوص کیمرہ فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پنچایت کے فیصلے کے مطابق یہ پابندی نہ صرف گھروں تک محدود ہوگی بلکہ شادیوں، سماجی تقریبات اور پڑوسیوں کے گھروں میں آمد و رفت کے دوران بھی اسمارٹ فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم سکول جانے والی لڑکیوں کو تعلیمی مقاصد کے لیے گھر کے اندر موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن وہ انہیں عوامی مقامات یا تقریبات میں ساتھ نہیں لے جا سکیں گی۔

یہ فیصلہ غازی پور گاؤں میں چودھری برادری کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت 14 پٹیوں کے صدر سوجن رام چودھری نے کی۔

اس موقع پر پنچ ہمت رام نے پنچایت کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا، یہ پابندی 26 جنوری سے نافذ العمل ہوگی جس کے تحت خواتین صرف کی پیڈ موبائل فون استعمال کر سکیں گی۔

 سوجن رام چودھری نے کہا کہ پنچایت اور برادری کے ارکان کے مابین تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا،ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں پر موبائل فون کے منفی اثرات خصوصاً آنکھوں کی صحت کو لاحق خدشات سے بچاؤ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ جانیوالوں کیلئے اہم خبر،کون سے لوگ پہلی ترجیح، جانیے

 انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض خواتین اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں کے دوران بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل فون دے دیتی ہیں جس کے باعث بچے طویل وقت تک اسکرین کے سامنے رہتے ہیں، پنچایت کے مطابق یہی صورتحال اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنی۔

واضح رہے کہ پنچایت کے اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید اور مخالفت بھی سامنے آ رہی ہیں کئی صارفین نے کہا کہ اس کا اطلاق خواتین کے بجائے لڑکوں پر کرنا چاہیے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اسے خواتین کی آزادی اور شخصی حقوق سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔