خبردار! کسی خاتون نے سمارٹ فون استعمال کیا، پنچایت کا چونکا دینے والا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)راجستھان کے ضلع جالور کے ایک گاؤں کی پنچایت نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے 15 دیہات میں بہوؤں اور نوجوان خواتین کے سمارٹ فون بالخصوص کیمرہ فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پنچایت کے فیصلے کے مطابق یہ پابندی نہ صرف گھروں تک محدود ہوگی بلکہ شادیوں، سماجی تقریبات اور پڑوسیوں کے گھروں میں آمد و رفت کے دوران بھی اسمارٹ فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم سکول جانے والی لڑکیوں کو تعلیمی مقاصد کے لیے گھر کے اندر موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن وہ انہیں عوامی مقامات یا تقریبات میں ساتھ نہیں لے جا سکیں گی۔
یہ فیصلہ غازی پور گاؤں میں چودھری برادری کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت 14 پٹیوں کے صدر سوجن رام چودھری نے کی۔
اس موقع پر پنچ ہمت رام نے پنچایت کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا، یہ پابندی 26 جنوری سے نافذ العمل ہوگی جس کے تحت خواتین صرف کی پیڈ موبائل فون استعمال کر سکیں گی۔
"Women can't use smartphones" ❌
— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) December 23, 2025
"They can only use keypad phones." ????
Chaudhary Caste Panchayat in Jalore, RJ banned women and girls in 15 villages from using camera-enabled smartphones.
Who authorised these jokers to pass an order against women? Arrest them immediately. pic.twitter.com/woz5S3VvYE
سوجن رام چودھری نے کہا کہ پنچایت اور برادری کے ارکان کے مابین تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا،ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں پر موبائل فون کے منفی اثرات خصوصاً آنکھوں کی صحت کو لاحق خدشات سے بچاؤ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ جانیوالوں کیلئے اہم خبر،کون سے لوگ پہلی ترجیح، جانیے
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض خواتین اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں کے دوران بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل فون دے دیتی ہیں جس کے باعث بچے طویل وقت تک اسکرین کے سامنے رہتے ہیں، پنچایت کے مطابق یہی صورتحال اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنی۔
واضح رہے کہ پنچایت کے اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید اور مخالفت بھی سامنے آ رہی ہیں کئی صارفین نے کہا کہ اس کا اطلاق خواتین کے بجائے لڑکوں پر کرنا چاہیے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اسے خواتین کی آزادی اور شخصی حقوق سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔