ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستانی معیشت سے متعلق تازہ ڈویلپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم ) ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ ڈویلپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں مالی سال 2027 کے دوران مہنگائی میں اضافے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے معاشی نمو کو بیرونی خطرات کے باعث محدود رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان میں اوسط مہنگائی بڑھ کر 8.3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہوگی، رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد جبکہ مالی سال 2025 میں 4.5 فیصد رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کی دوسری ششماہی کے دوران غذائی اشیا کی قیمتوں اور عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا، توانائی، نقل و حمل اور زرعی اجناس کی بلند قیمتیں ملکی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہیں۔
اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں شدت آنے کی صورت میں توانائی کی درآمدی لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹس متاثر ہونے سے بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ متعارف کرائے جانے سے ملکی طلب اور معاشی سرگرمیوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2025 کی 3.2 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں زیادہ ہے، اے ڈی بی نے مالی سال 2027 میں بھی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں اقتصادی اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد اور بیرونی مالیاتی بفرز میں بہتری دیکھی جا رہی ہے،عالمی کیپیٹل مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی اور حالیہ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور نجی سرمایہ کاری کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی عوام الحرمین و شریفین کی حفاظت کو سعادت سمجھتی ہے:مریم نواز
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سمیت بیرونی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی معاشی شرح نمو میں مزید تیزی کو محدود کرسکتی ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق مالی سال 2026 میں مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں توسیع نے معاشی نمو میں مدد فراہم کی، سیلاب سے بڑی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود زراعت کے شعبے میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کم شرحِ سود اور کاروباری اعتماد میں بہتری کے باعث نجی سرمایہ کاری میں 8.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام کے عمل میں بھی پیش رفت جاری رہی اور مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا، جس سے بیرونی مالیاتی استحکام مضبوط ہوا۔
اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کی معیشت نے میکرو اکنامک استحکام مضبوط بنانے میں پیش رفت کی ہے، تاہم معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔