معروف ملی نغموں کے خالق جمیل الدین عالی کوبچھڑے 10 برس بیت گئے

جیوے جیوے پاکستان،تو نے پاکستان دیاکے علاوہ ہم مصطفوی ہیں جیساترانہ بھی لکھا

Nov 23, 2025 | 11:05:AM
معروف ملی نغموں کے خالق جمیل الدین عالی کوبچھڑے 10 برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)معروف دانشور،شاعر،ادیب،نقاد اوراردوادب میں انمٹ نقوش چھوڑنے والے جمیل الدین عالی کواس دنیاسے گئے 10 برس بیت گئے۔
20 جنوری 1925ء کو دہلی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر جمیل الدین عالی نے بیک وقت شاعر، ادیب، محقق اور کالم نگار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،ان کے دادا غالب کے شاگردوں میں شامل تھے،جمیل الدین عالی کے والد شاعر جبکہ والدہ کا تعلق اُردو کے مشہور شاعر میر درد کے خاندان سے تھا۔
جمیل الدین عالی کئی سال تک اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ بھی رہے اور پچپن سال تک انجمن ترقی اردو سے وابستہ رہے،انہوں نے اے میرے دشت سخن،جیوے جیوے پاکستان،لاحاصل اورنئی کرن جیسی کتابیں بھی لکھیں،ادبی کتابوں کے علاوہ دُنیامیرے آگے،تماشا میرے آگے،آئی لینڈ اورحرفے جیسے سفرنامے بھی لکھے۔

پڑھیں:چاکلیٹی ہیرووحیدمرادکومداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے
1965ء کی جنگ ستمبرکے دوران جمیل الدین عالی نے کئی ملی نغمے بھی لکھے جن میں اے وطن کے سجیلے جوانوں،اتنے بڑے جیون ساگر میں توں نے پاکستان دیاکے علاوہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے لیے ”ہم تا ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں ہم مصطفوی ہیں“ بھی لکھاتھا۔
اردو ادب کے لئے طویل خدمات کے اعتراف میں 1991ء میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور2004ء میں تمغہ امتیازسے نوازاگیاتھا،وہ طویل علالت کے بعد 23 نومبر 2015ء کو راہی ملک عدم ہوگئے تھے۔