چاکلیٹی ہیرووحیدمرادکومداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے

75ہفتے چلنے والی فلم ارمان نے عروج پرپہنچایااوروہ پاکستان کے پہلے باقاعدہ سپر اسٹارکہلائے

Nov 23, 2025 | 10:29:AM
چاکلیٹی ہیرووحیدمرادکومداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)پاکستان فلم انڈسٹری کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کومداحوں سے بچھڑے42 برس بیت گئے،یہ نامور فنکار23 نومبر 1983ء کو کراچی میں 45 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے اورانہیں لاہور میں سپردخاک کیاگیا تھا،مقدر،زلزلہ اور ہیروان کی آخری فلمیں تھیں جو ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئیں۔
2 اکتوبر1938ء کو فلمساز نثار مراد کے گھر پیداہونیوالے وحیدمراد نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیااورفلمی کیریئرکاآغاز1962ء میں فلم”ہیرا اور پتھر“ سے کیالیکن سلور اسکرین پرمسلسل75ہفتے چلنے والی فلم”ارمان“نے انہیں عروج پرپہنچایااوروہ پاکستان فلم انڈسٹری کے پہلے باقاعدہ سپر اسٹارکہلائے۔


انہوں نے 124 کے لگ بھگ فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے جن میں دوراہا،عندلیب،جب جب پھول کِھلے، سالگرہ،انجمن،جہاں تم وہاں ہم، پھول میرے گلشن کا،دیور بھابھی،کنیز‘انسانیت‘دل میرا دھڑکن تیری‘ناگ منی‘ بہارو پھول برساؤ‘تم سلامت رہو‘لیلیٰ مجنوں‘دیدار‘ شمع،دلربا،راستے کا پتھر‘ثریا بھوپالی‘شبانہ‘پرستش‘اپنے ہوئے پرائے‘سہیلی‘ پرکھ‘شیشے کا گھر‘وعدے کی زنجیر‘راجہ کی آئے گی بارات‘بندھن‘بدنام‘ گھیراؤ‘آہٹ‘ مانگ میری بھر دو‘شیشے کا گھر اور دیگر نمایاں ہیں۔


اس کے علاوہ10پنجابی فلموں مستانہ ماہی‘عشق میرا ناں‘سیونی میرا ماہی‘جوگی‘ سجن کملا‘ عورت راج‘ اَکھ لڑی بدوبدی‘ انوکھاداج‘پرواہ نئیں اور ووہٹی جی میں بھی اداکاری کے جوہردکھائے،ایک پشتو فلم ”پختون پہ ولایت کنبر“ بھی ان کے کریڈٹ پرہے،بطور فلمساز انہوں نے13 فلمیں بنائیں جو سب سُپر ہٹ ثابت ہوئیں جن میں ”انسان بدلتا ہے“بطور فلمساز پہلی فلم تھی۔
بطور ہیروان کی پہلی فلم”اولاد“1962ء میں ریلیز ہوئی لیکن ”ہیرا اور پتھر“سے انہیں چاکلیٹی ہیرو کی شُہرت حاصل ہوئی جو1964ء میں ریلیز ہوئی،اس میں زیبا وحید مراد کے مدِمقابل تھیں۔
وحیدمرادنے اس وقت کی ہر بڑی ہیروئن کے ساتھ کام کیا جن میں شمیم آراء،رانی، شبنم،آسیہ، ممتاز،کویتا، سنگیتا، زیبا،دیبا،عالیہ، بابرہ شریف،نشو اورنیلوشامل ہیں۔
دلیپ کمار کے بعد وہ برصغیر میں واحد ہیرو تھے جن کے بالوں کے اسٹائل اور ملبوسات کی نقالی کی گئی،ان کا ہیئرسٹائل نوجوانوں میں بہت مقبول تھا،لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے سٹوڈیو کے باہر گھنٹوں کھڑے رہتے تھے،کہاجاتاہے کہ اپنے عروج کے دور میں ایک باروہ اپنے بچوں کے سکول گئے تو سکول کے باہر اتنا رش لگ گیا کہ تین گھنٹے تک وہاں ٹریفک جام رہی اورپولیس بُلانا پڑی، بعدمیں سکول کے پرنسپل نے وحید مُراد کے بچوں سے کہہ دیاکہ آئندہ سے اپنے باپ کو سکول آنے کا نہیں کہنا۔ 


وحید مُراد نے فلم انڈسٹری کے ہربڑے ہدایت کار کے ساتھ کام کیا جن میں ایس ایم یوسف‘ قدیر غوری‘پرویز ملک‘شباب کیرانوی‘ اقبال یوسف‘ حسن طارق‘ایم اے رشید‘ نذرالاسلام‘ اسلم ڈار‘ظفر شباب‘ شمیم آرا‘جاوید سجاد‘ اقبال اختر اوردیگر شامل ہیں۔وہ ہر فلم کے سیٹ پر نہ صرف خود وقت پرپہنچتے بلکہ دوسروں کو بھی وقت کی پابندی کی تلقین کیاکرتے۔

یہ بھی پڑھیں:معروف بھارتی پنجابی گلوکار ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہارگئے
انہیں فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں بے شمارایوارڈز سے نوازاگیا جن میں نگارایوارڈ‘رومان ایوارڈ‘ نورجہاں ایوارڈ‘ چترالی ایوارڈ (ڈھاکہ)‘ گریجوایٹ ایوارڈ‘ سندھ عوامی ایوارڈ‘مصورایوارڈ اور ریاض شاہد ایوارڈ نمایاں ہیں۔انہوں نے ندیم‘شاہد‘ محمد علی‘ سدھیر‘ حبیب‘ طالش‘سلطان راہی‘ سنتوش‘ مصطفیٰ قریشی‘ یوسف خان‘آصف خان‘ غلام محی الدین سمیت فلم انڈسٹری کے ہر مقبول فنکار کے ساتھ کام کیا۔
وحیدمراد کے فلمی عروج و زوال کو ہالی وُڈ اداکار ایلوس پریسلے سے تشبیہ دی جاتی ہے جنہوں نے طویل شہرت کے بعد اچانک زوال کا منہ دیکھا،انہوں نے سلمیٰ مُراد سے شادی کی تھی جن سے ان کے دو بچے عادل مراد اور عالیہ مراد ہیں۔