پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب، مگر کوئلے سے نجات اب بھی دور

May 23, 2026 | 22:56:PM
پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب، مگر کوئلے سے نجات اب بھی دور
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (اشرف خان )پاکستان کے توانائی کے شعبے میں قابلِ تجدید توانائی کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور چند برس قبل تک نہ ہونے کے برابر سمجھی جانے والی شمسی توانائی اب ملکی بجلی نظام کا ایک نمایاں حصہ بن چکی ہے تاہم ماہرین کے مطابق ملک اب بھی کوئلے پر انحصار کم کرنے کے حوالے سے واضح پالیسی اختیار کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

گلوبل انرجی مانیٹر کی عالمی کوئلہ بیڑے سے متعلق تازہ رپورٹ Boom and Bust 2026 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں نچلی سطح پر شمسی توانائی کا ایک خاموش انقلاب جاری ہے، جس نے قومی بجلی گرڈ کی مالی صورتحال کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں غیر مرکزی یا آف گرڈ شمسی نظاموں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور اندازہ ہے کہ ملک میں مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 25 فیصد حصہ اب شمسی توانائی سے پورا ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور بڑھتے ہوئے بلوں سے بچنے کے لیے تیزی سے سولر سسٹمز اپنا رہے ہیں، جبکہ دیہی اور شہری علاقوں میں چھتوں پر نصب سولر پینلز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان اب بھی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر انحصار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں کسی بھی فعال کوئلہ پاور پلانٹ کی بندش کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، جبکہ قومی ماحولیاتی اہداف یعنی NDCs میں بھی کوئلے کے خاتمے کا واضح ذکر موجود نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی کوئلے کو توانائی کے تحفظ کے لیے اہم ذریعہ قرار دے کر اس کے استعمال کو مزید بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (IPPs) طویل المدتی معاہدوں میں توسیع کے خواہاں ہیں، جس سے آئندہ برسوں میں کوئلے کی بجلی نظام میں مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

گلوبل انرجی مانیٹر کی سینئر محقق لوسی ہمر کے مطابق پاکستان اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اصل مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ غیر استعمال شدہ مہنگے بجلی معاہدوں کی ادائیگی بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی صفِ اول میں شامل ہو رہا ہے جو ایسے غیر معاشی کوئلہ معاہدوں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی ضرورت اب کم ہو چکی ہے۔

ادھر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (PRIED) کی ماہر شاہیرہ طاہر نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں حالیہ جنگ اور خطے میں کشیدگی کے بعد پاکستان ایک اہم فیصلے کے موڑ پر کھڑا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کے پاس دو راستے ہیں: یا تو تقسیم شدہ شمسی توانائی کے فروغ کو جاری رکھا جائے، یا درآمدی ایندھن پر چلنے والے کوئلہ گھروں کو مقامی کوئلے پر منتقل کیا جائے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے، حالانکہ عوام خود تیزی سے سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
شاہیرہ طاہر نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر 10 فیصد ٹیکس اور گرڈ سے منسلک سولر سسٹمز کے لیے مختلف رکاوٹوں کے باوجود عوام شمسی توانائی اپنانے میں دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب PRIED کی کمیونیکیشن اسپیشلسٹ زہرہ نعیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ توانائی کے تحفظ کے نام پر پاکستان میں کوئلے کے مزید منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں، جو مستقبل میں ملک کو ایک نئے فوسل فیول بحران میں دھکیل سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی پالیسی جاری رہی تو پاکستان ایک مرتبہ پھر اضافی اور مہنگی بجلی پیداوار کے جال میں پھنس سکتا ہے، جبکہ عوام پہلے ہی قومی گرڈ پر انحصار کم کر کے شمسی توانائی کو ترجیح دے رہے ہیں, ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب توانائی کی پیداوار بڑھانا نہیں بلکہ سستی، پائیدار اور ماحول دوست توانائی کی طرف منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔