پیٹرول پمپس کی بندش؛ کاروباری افراد، طلبہ اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
( رمشاء اسماعیل )پیٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کے باعث کاروباری افراد، طلبہ اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہوگئے۔
کراچی میں متعدد پیٹرول پمپس کی بندش کے باعث شہریوں کو پیٹرول کے حصول میں شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ پیٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کے باعث شہرمیں کئی پمپ بندہیں ۔
پیٹرول کی قلت کے باعث کاروباری افراد اور طلبہ بھی پریشانی کاشکارہیں کیونکہ روزمرہ معمولات متاثرہورہے ہیں اور سفری مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیاہے،شہریوں کودفاتراورکام کی جگہوں سے گھروں کو واپسی میں دشواری کاسامناہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ،ڈالرسستاہوگیا
شہریوں کاکہناہے کہ پیٹرول پمپس بند ہیں جس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
دوسری طرف پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیاہے۔
کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی، جس کی ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم اور اوگرا پر ہوگی،انہوں نے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے اور کمرشل لوڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عابد اللہ آفریدی کاکہناتھاکہ گزشتہ تین سال سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ موٹروے اور این ایچ اے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے ٹول ٹیکس کے تناسب سے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے، گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی مگر اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے انہیں ہڑتال پر مجبور کیا،مطالبات نہ مانے گئے تو پورے پاکستان میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام ہوگا۔
جنرل سیکرٹری شعیب خان کاکہناتھاکہ پائپ لائن کو 55 فیصد کے بجائے 80 فیصد مال دیا جا رہا ہے، جس کے باعث گاڑیاں لوڈ کے انتظار میں کھڑی رہتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمرشل لوڈنگ بند کر کے پائپ لائن کا کوٹہ مقرر کیا جائے، پائپ لائن کی وجہ سے دو ماہ میں صرف ایک ٹرپ ملتی ہے، جبکہ ایک گاڑی پر ڈھائی سے تین کروڑ روپے لاگت آتی ہے، حکومت نے 70 فیصد کوٹہ پائپ لائن کو دیا ہوا ہے، باقی 30 فیصد روڈ کے لیے ہے، مگر وہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا،وفاقی وزیر علی پرویز کو کئی بار ملاقات کے لیے خطوط لکھے، لیکن شنوائی نہیں ہوئی، اور جب احتجاج یا ہڑتال کی بات کی جاتی ہے تو حکومت عوام کے ساتھ زیادتی کا الزام لگاتی ہے۔
آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز جدون کاکہناہے کہ این ایچ اے کا ٹیکس تین سال میں 180 فیصد بڑھ چکا ہے، مگر کرائے آج بھی تین سال پہلے والے ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ٹرانسپورٹ ہے، ٹرانسپورٹرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے، اگر 72 گھنٹوں میں مسائل حل نہ ہوئے تو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی، کیونکہ حکومت نے انہیں اس پر مجبور کر دیا ہے۔