جوہری تنصیبات پر امریکی حملے،اتحادیوں کا پیوٹن سے ایران کیلئے فوجی تعاون دینے کا مطالبہ

Jun 22, 2025 | 19:02:PM
جوہری تنصیبات پر امریکی حملے،اتحادیوں کا پیوٹن سے ایران کیلئے فوجی تعاون دینے کا مطالبہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی فضائی حملے کے بعد روس میں صدر ولادیمیر پیوٹن کے اتحادی حلقوں نے ایران کی فوجی امداد کا مطالبہ کر دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ روس کو تہران کو سیٹلائٹ انٹیلی جنس، فضائی دفاعی نظام اور میزائل فراہم کرنے چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے رات گئے امریکی بی-2  سٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کی3 ایٹمی تنصیبات، بشمول فورڈو نیوکلئیر سائٹ پر بمباری کی،اس حملے نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے۔

روسی کاروباری شخصیت اور قوم پرست میڈیا نیٹ ورک Tsargrad کے سربراہ کونسٹنٹین مالوفیف نے کہا،اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تہران کی مدد کریں، امریکہ نے یوکرین میں امن کا دعویٰ کر کے پیوٹن کا مذاق اڑایا ہے،انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا ،قسمت ہمیں ایک تاریخی موقع دے رہی ہے، دو طرفہ کھیل شروع ہو چکا ہے۔ 

 روس کی حکومت نے تاحال باضابطہ طور پر کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دیا  تاہم امریکی کارروائی کو طنزیہ انداز میں مسترد کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ روس اور ایران کے درمیان رواں برس جنوری میں ایک "جامع  سٹریٹجک شراکت داری" پر دستخط ہوئے تھے جو اگرچہ دفاعی معاہدہ نہیں ہے  لیکن سیکیورٹی تعاون اور حملہ آوروں کی حمایت نہ کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔

روس کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی اور سابق صدر دیمتری میدویدیف نے کہا ایران کی ایٹمی تنصیبات کو معمولی یا کوئی نقصان نہیں پہنچا، ایٹمی مواد کی افزودگی اور مستقبل میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری جاری رہے گی،انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کئی ممالک ایران کو ایٹمی ہتھیار فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں: قطرکاخطےمیں کشیدگی پر تشویش کااظہار، فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ