ایران ایکسپورٹ کئے جانے والے 3000 کنٹینرز کراچی پورٹ پر رک گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) امریکہ کی سؒخت ناکہ بندی کے سبب ایران ایکسپورٹ کئے جانے والے 3000 کنٹینرز کراچی پورٹ پر رک گئے۔
ایران کی بحری ناکہ بندی کے اثرات کراچی پورٹ پر نمایاں نطر آ رہے ہیں۔
الجزیرہ نیوز کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں، دستاویزات سامنے آئی ہیں، جن میں کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے 3,000 کنٹینرز کو واپس لانے کے لیے مدد طلب کی گئی ہے۔ یہ کنٹینرز ٹرانس بھیج کر ایران کے لیے روانہ کیے گئے تھے، لیکن اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، جس کی وجہ سے وہ کراچی میں اتارے گئے۔
پاکستانی حکام کے ساتھ زمینی راستے کے ذریعہ ان کنٹینرز کی ایران منتقلی کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت ان کنٹینرز کو پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے پاکستان ایران سرحد تک پہنچایا جائے گا۔ وہاں سے ایرانی ٹرک انہیں ایران لے جا سکتے ہیں۔
دریں اثنا، سمندری ماہرین اور جہاز رانی کی صنعت نے انکشاف کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں یوآن میں ٹول وصول کر رہا ہے، خاص طور پر چین کے ساتھ لین دین کے لیے، اور کرپٹو کرنسی میں بھی۔ اس نظام میں ایک ٹائرڈ اپروچ شامل ہے۔ تیل کے لیے ایران تقریباً ایک ڈالر فی بیرل چارج کررہا ہے۔ نتیجتاً لاکھوں بیرل تیل لے جانے والا جہاز ایران کو لاکھوں ہی ڈالر ادا کرےگا۔ دیگر کارگو کے لیے، چارجز کا تعین تیل کے بیرل کی قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات،علاقائی صورتحال اورمذاکرات پر گفتگو
الجزیرہ نیوز نے رپورٹ کیا کہ یہ آبنائے ہرمز میں یہ ٹول ٹیکس نظام ایران کے لیے فائدہ مند ثابت رہا تھا ، لیکن امریکہ نے ناکہ بندی کر کے اب اس سپلائی چین میں خلل ڈال دیا۔ امریکی ناکہ بندی مؤثر ثابت ہوئی ہے، مبینہ طور پر درجنوں بحری جہاز روک دیے گئے ہیں۔ صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ناکہ بندی ایک صریح تنازعہ کے بجائے ایران پر دباؤ کا زیادہ کام کرتی ہے۔