اس سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں: این ڈی ایم اے

گلیشئرز پگھلنے سے لوکل فلڈزاور نالوں میں طغیانی آئے گی،چیئرمین کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

May 21, 2025 | 16:49:PM
اس سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں: این ڈی ایم اے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) این ڈی ایم اے  نے کہاہے کہ اس سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ 

 سینیٹر شیری رحمان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی عمارت میں منعقد ہوا،چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اس سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں،پاکستان میں 26 یا 27 جون کو  مون سون کے داخل ہونے کی توقع ہے، مون سون سیزن جولائی سے 15 ستمبر تک چلتا ہے،تاہم اس سال مون سون تین  چار روز قبل آئے گا۔

 این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ مون سون میں شمالی اورمشرقی پنجاب میں زیادہ بارش ہوگی،گلیشئرز کے پگھلنے سے لوکل فلڈزاور نالوں میں طغیانی آئے گی، ملک میں موجودہ ہیٹ ویو کی 6 ماہ پہلے ایڈوائزری جاری کردی تھی، راجن پور اور ڈی جی خان میں بھی زیادہ بارشیں ہوسکتی ہیں، ان اضلاع کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حکام نے بتایا کہ پنجاب میں درجہ حرارت میں دو سے تین ڈگری کا فرق آ رہا ہے، سندھ میں 2.5  ڈگری نارمل سے زیادہ درجہ حرارت ہو گا، کے پی میں 1.5 ڈگری فرق ہے, پنجاب میں 344 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جبکہ اس بار 388 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، شمالی  مشرقی  پنجاب میں  بارش پچاس فیصد زیادہ ہوگی، جنوبی پنجاب میں  بھی زیادہ بارش ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:بحیرہ عرب میں کم دباؤ کا سسٹم بننے کی پیشگوئی،الرٹ جاری

 این ڈی ایم اے کے مطابق سلیمان رینج میں hill torrents نظر آ رہے ہیں، شمالی  کے پی میں کم  جبکہ جنوبی کے پی میں نارمل یا نارمل سے زیادہ بارش ہوگی, چترال اور گلیشیر والے کے پی میں بارش کم ہو گی,کے پی میں  عام طور پر 243 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، اس سال 300 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، آزاد کشمیر میں بھی زیادہ بارش ہو گی، بلوچستان میں کم بارش  ہوگی اور درجہ حرارت زیادہ ہوگا۔

 سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بھی ہم پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس پر چیئرمین  این ڈی ایم اے انعام حیدر ملک نے کہا کہ  سندھ طاس معاہدے پر  اسٹڈی شروع کر رکھی ہے، بھارت کے پاس جو مغربی دریاؤں پر کیپیسٹی تھی وہ اس سے کم پانی  استعمال کر رہے ہیں، اس سال  basin میں 35 فیصد کم پانی ہوگا گزشتہ سال31 فیصد کم تھا۔