ہمیں یہ تو بتایا جائے ہمارے ارکان کے خلاف کتنی ایف آئی آر ہیں، اسلام آباد بار رہنماؤں کی پریس کانفرنس

Jan 21, 2026 | 22:21:PM
ہمیں یہ تو بتایا جائے ہمارے ارکان کے خلاف کتنی ایف آئی آر ہیں، اسلام آباد بار رہنماؤں کی پریس کانفرنس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)   ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد کے صدر نعیم علی گجر  نے کہا ہے کہ ہمیں یہ تو بتایا جائے ہمارے ان ممبران کے خلاف کتنی ایف آئی آر درج ہیں۔نعیم علی گجر نے  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا، ہمیں تمام ایف آئی آرز کی کاپیاں دی جائیں۔ 

انہوں نے کہا،  دو راتوں سے ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود ہیں۔صبح ہم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی۔ہم نے ملزمان کو عدالت میں سرنڈر کرایا اور ضمانت لی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چاروں طرف اسلام آباد پولیس موجود ہے ہمارے وکلا کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ہمارے وکلا کی چھان ہین کی جا رہی ہے گاڑیوں کی ڈگیوں کو چیک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ہم نے کبھی قانون کو ہاتھ میں لیا نا قانون کو ہاتھ میں لیں گے۔ہم کبھی نہیں چاہیے گے کے ادارے کمزور ہوں۔ 
نعیم علی گجر نے کہا،  ہمیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع دیا جائے۔  ہمیں تمام ایف آئی آر کی کاپیز فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا،  دو دن سے اسلام آباد پولیس ہائیکورٹ کے اندر موجود ہے۔ ہم نہیں چاہتے کے کوئی لڑائی جھگڑا ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ ہمارا گھر ہے۔ ہمیں ہائیکورٹ میں آنے کے لیے پولیس کے سوالات کا سامنا  ہے۔   ایسے لگ رہا ہے یہ اسلام آباد ہائیکورٹ نہیں قید خانہ ہو۔

ڈسٹرکت بار کے صدر نے کہا، اسلام آباد ہائیکورٹ کی عزت کو مجروح نہ کیا جائے۔  اگر کسی نے گرفتار کرنا ی ہے تو یہاں ا کر گرفتار کر لیں۔ لیکن بتائیں تو سہی  کہ ہمارےارکان کا قصور کیا ہے۔

انہوں نے کہا،  وزیراعظم پاکستان ،وزیرداخلہ،لا منسٹر سے درخواست ہے اس معاملے کو حل کیا جائے۔
 اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر  واجد علی گیلانی نے بھی اس پریس کانفرنس مین بات کی۔ انہوں نے کہا،  ہم تمام اداروں کی عزت کرتے ہیں، ہمارے ادارے کا بھی تقدس ہے۔ قانون کا راستہ  وکلا کو دیں۔ انہوں نے کہا، میں کل چھ بجے سے لیکر اب  تک انکے ساتھ ہوں۔ سویا نہیں  ہوں،  یہ میرا ذاتی کام نہیں یہ میرے ادارے کا تقدس ہے۔ ہماری ارباب اختیار سے استدعا ہے،ہماری اداروں سے درخواست ہے کے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو قانون کے مطابق ڈیل کریں۔

انہوں نے کہا،  جس وقت بھی کوئی ملزم عدالت میں آ جایے تو تمام ادارے ہیں انکا کوئی حق حاصل نہیں ان ملزمان یا ان لوگوں کو ہراس کریں۔

ایمان مزاری  نے کہا،   ہم اپنی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم نے قانون کی حکمرانی کی بات کی۔

ہادی علی چٹھہ نے کہا،  ہمیں اگر غیر قانونی طریقے سے کسی نے گرفتار کرنا یے تو ا کے گرفتار کر لیں ۔

صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے مزید کہا،  کسی کو کوہی حق نہیں کے ریاست کے خلاف بات کرے۔ ہم کسی وکیل اور   کسی  دوسرےشخص کو ریاست کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔