پاکستان نے افغانستان کے خلاف تاریخی فتوحات حاصل کیں: سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف تاریخی فتوحات حاصل کیں جن میں سر فہرست تو پاکستان نے افغانستان کی21 چوکیوں پر قبضہ کر لیا جو کہ ابھی تک پاکستان کے قبضے میں ہیں اور سینکڑوں خارجی پاکستان نے جہنم واصل کیے۔
سلیم بخاری نے پاک افغان جنگ بندی معاہدے اور اس کے بعد افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی سے متعلق تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تو حتمی طور پر اس کے متعلق جواب نہیں دیا جاسکتا لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اور افغانستان کا جو بارڈر ہے جس کو ویسٹرن بارڈر کہتے ہیں اس پر امن ہو جانا چاہیے تھا۔
وہ اس لئے کہ دو پڑوسی ممالک ہیں جو کہ مسلم بھی ہیں لیکن یہ کیوں نہیں ہوسکا اس کی بھی کئی وجوہات ہیں ایک وجہ تو یہ تھی کہ پاکستان کا برداشت کا پیمانہ بہت ہائی رہا لیکن اب آخر کار پاکستان کی برداشت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا اور پھر پاکستان نے تھوڑا سا سبق سکھانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پاکستان کو افغانستان کے اند ر کس کس قسم کی فتوحات حاصل ہوئیں جن میں سر فہرست تو پاکستان نے افغانستان کی21 چوکیوں پر قبضہ کر لیا جو کہ ابھی تک پاکستان کے قبضے میں ہیں اور سینکڑوں خارجی پاکستان نے جہنم واصل کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت نے پہلی بار یہ چکھا ہے کہ پاکستان اگر چاہے تو وہ افغانستان کی مدد کے بغیر بھی ان میں اتنی قابلیت ہے کہ وہ افغانستا ن کے اند ر موجود دہشت گردوں کو نشانہ بنا سکتا ہے،پاک فوج نے پکتیا اور دیگر مقامات میں اند ر جا کر نہ صر ف کاروائی بھی کی ہے اور دہشتگرد عناصر کا قلع قمع بھی کیا ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ اس معاہدے کی کامیابی کے چانسز اس لیے بھی زیادہ ہیں کیوں کہ یہ کوئی اوپر سےکسی سپر پاور کی جانب سے تھوپا گیا معاہدہ نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ کہ ہے اس میں جو دو ثالث ممالک ہیں وہ بھی مسلمان ممالک ہیں جنہوں نے اس معاہدے کی تائید بھی کی ہے اور قرار دیا ہے کہ اس خطے کے امن کے لیے یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا؛
سلیم بخاری نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کو گھٹیا دشمن قرار دیا اور نہ صرف نیتن یا ہو بلکہ امریکی صدر ٹرمپ کو ایک جیسے گھٹیا انسان قرار دیا اور کہا کہ اس بات کا پہلے سے ہی یقین تھا کہ جب ان کے مقاصد حل ہو جائیں گے تو یہ گھٹیا لوگ ایسی ہی حرکتوں پر اتر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا مجھے اسرائیل اور امریکہ پر تو اعتراض تو ہے ہی کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد جنگ بندی کے باوجود جو قتل عام ابھی بھی جاری ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات پر اعتراض ہے کہ امریکہ اور امریکی لیڈر شپ اسرائیل کی اس غیر قانونی اور غیر انسانی قتل عام کی حمایت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔
سلیم بخاری نے کہا کہ امریکی نائب صد ر کا یہ بیان کہ امریکہ ایک وفد اسرائیل بھیجے گا جو کہ اسرائیل،غزہ میں جنگ بندی فریم ورک پر بات ہوگی دوسری طرفامریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کُشنر آج اسرائیل پہنچیں گے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو اسرائیل پہنچیں گے۔
تینوں امریکی حکام اپنے دورے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے امریکی فریم ورک کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب جنگ بندی ہوچکی تو اسرائیل حملے کیسے کر رہا ہے اور حماس جس کے متعلق دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے وہ کیسے حملے کر سکتی ہے۔
وزیر اعلی ٰ کے پی اور بانی تحریک انصاف کی ملاقات تاخیر کا شکاراندر کی بات کیا ؟
اپنی رائے کا اظہار کرے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی ایک بھی تقریر سے یہ ظاہر نہیں ہوتاکہ کوئی چیف منسٹر بول رہا ہے اتنا غیر سنجیدہ اور لاابالی قسم کا بندہ ، کے پی کی عوام کو ووٹ دیکر لانے سے پہلے سو دفع سوچنا چاہیے تھا کہ اس سے کسی بہتر بندے کو ہی اس سیٹ پر بٹھا دیتے۔
ان کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ میں کوئی روایتی وزیر اعلیٰ نہیں ہو میں روایتی انداز سے ہٹ کر کام کروں گا۔انہوں نے پوچھا اپکے پہلے وزراء اعلی ٰ کہاں ہیں جیسا کے پرویز خٹک، محمود خان، اور گنڈا پور اپ کا انجام بھی ان جیسا ہی ہو گا،اس لیے اپ کا ایک صوبے کے بطوروزیر اعلیٰ آئین اور قانون کے مطابق ایکٹ کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، مسرت جمشید چیمہ