بلیک میل نہیں ہوں گے، کشیدگی کا مقابلہ شدت سے کریں گے، فیصل بن فرحان

Mar 20, 2026 | 21:03:PM
بلیک میل نہیں ہوں گے، کشیدگی کا مقابلہ شدت سے کریں گے، فیصل بن فرحان
کیپشن: سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود 19 مارچ 2026 کو ریاض میں مشاورتی وزارتی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں (فوٹو: فیض نورالدین / اے ایف پی) 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) سعودی عرب کے وزیر خارجہ  فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ 
شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں علاقہ کے وزرا خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، وزرا خارجہ کے اجلاس کے موقع پر  تہران کا ریاض اور عرب وزرائے خارجہ کی ملاقات کو نشانہ بنانا ’اس بات کی واضح علامت ہے کہ ایران سفارت کاری کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے‘۔
وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے علاقائی وزرا خارجہ کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ کے سامنے آنے کے بعد اپنی گفتگو مین واضح کیا کہ سعودی عرب نے ایران کی جانب سے بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کیا ہے۔

دباؤ الٹا اثر کرے گا، ہم فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں

فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایران حملوں کے ذریعے اپنے پڑوسیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مملکت دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے، اور اس کے برعکس، یہ دباؤ الٹا جواب دے گا… اور یقینی طور پر، جیسا کہ ہم نے واضح طور پر کہا ہے، ہم نے ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھا ہے۔

سعودی عرب ناپنے دارالحکومت ریاض مین جب  تقریباً ایک درجن مہمان وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا، عین اس وقت بھی ایران نے ریاض پر حملے کئے۔ ان حملوں کے وقت علاقائی ممالک کے وزرا خارجہ ایران کی اپنے خلاف جارحیت کا مشترکہ جواب دینے کے متعلق صلاح مشورہ کر رہے تھے۔

ی ہبھی پڑھیئے:   شمالی ایران میں دوسری بندرگاہ پر اسرائیلی ائیر فورس کے حملے

اس اہم اجلاس میں بیتھے وزرا خارجہ نے بھی سعودی عرب کے  دارالحکومت میں کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سعودی وزارت دفاع نے ان حملوں کے بعد بتایا کہ یہ بیلسٹک میزائل کے حملے تھے اور سعودی عرب کے میزائل ڈیفیس سسٹم نے ایران سے فائر کئے گئےبیلسٹک میزائلوں کو روک لیا ہے۔

شہزادہ فیصل  بن فرحان نے کہا کہ "ریاض کو اس وقت نشانہ بنانا جب کہ متعدد سفارت کار ملاقات کر رہے ہیں… میرے خیال میں یہ سب سے واضح اشارہ ہے کہ ایران سفارت کاری کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہے،" شہزادہ فیصل نے کہا۔ "یہ(ایران) اپنے پڑوسیوں سے بات کرنے میں یقین نہیں رکھتا۔"

Caption  سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود، مرکز، سعودی دارالحکومت ریاض میں، 19 مارچ، 2026 کو عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک مشاورتی اجلاس سے پہلے وزرائے خارجہ کے ساتھ پوز دے رہے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے خلیج میں بار بار "سویلین سائٹس کو نشانہ بنانے" کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے اس جواز کو مسترد کیا کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو "کمزور" قرار دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "نہ تو سعودی عرب اور نہ ہی خلیجی ریاستیں بلیک میلنگ کو قبول کریں گی، اور کشیدگی کا مقابلہ شدت سے کیا جائے گا۔"

علاقائی وزرا خارجہ کا مشترکہ بیان

ریاض میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے ایک مشترکہ بیان میں "رہائشی علاقوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے جان بوجھ کر استعمال کی مذمت کی گئی ہے،  تیل کی تنصیبات، ڈی سیلینیشن پلانٹس، ہوائی اڈوں، رہائشی سہولیات اور سفارتی مشنز پر ایران کے حملوں کی بھی مذمت کی گئی اور ایران سے یہ سب حملے فی الفور روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ریاض میں مفصل مشاورت کرنے کے بعد ان وزراء نے "اس بات کی تصدیق کی کہ اس طرح کے حملوں کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور ریاستوں کے اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا"، بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران سے "فوری طور پر اپنے حملے بند کرنے" اور کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Caption سعودی عرب پر گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایران سے فائر کئے گئے بیشتر میزائلوں کو سعودی عرب کے میزائل ڈیفینس سسٹم نے راستے میں روک دیا، ایران کے کچھ ڈرون اور کچھ میزائل بہرحال  نقصان کرنے میں کامیاب رہے،  سعودی عرب کے پاس ڈرونز کو  نیوٹرلائز کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس کا رزلٹ سو فیصد نہیں ہے۔

اجلاس میں مصر اور پاکستان کے سوا باقی تمام ملک وہ تھے جن پر ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد بار بار میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام