آئی جی سندھ کی غیرحاضری،سینیٹ قائمہ کمیٹی برہم،ڈیٹالیکس,آنلائن فراڈاورپولیس کارکردگی پرسوالات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت ہوا،اجلاس میں آئی جی سندھ کی غیر حاضری پر چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا،چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ آئی جی سندھ کیوں نہیں آئے اور نہ ہی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔
ممبر کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پولیس کی اجارہ داری کو کم کرنے کے لیے قانونی سازی وقت کی ضرورت ہے،انہوں نے سوال کیا کہ آئی جی سندھ کیا گل پلازہ میں آگ بجھا رہے ہیں؟ کمیٹی پولیس کو ممبران کے سامنے جوابدہ بنانے کے لیے قانون سازی کرے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مطالبہ کیا کہ سندھ پولیس کو بلا کر پوچھا جائے کہ کچے کے کتنے ڈاکو پکڑے گئے،سندھ میں ایک ایس ایچ او کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا، اس وقت پولیس کہاں تھی؟ کیا پولیس صرف پارلیمنٹرین کی تذلیل ہی کرتی رہے گی؟
ایم پی اے اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے دوہرے قتل پر بھی سینیٹ داخلہ کمیٹی میں بحث ہوئی، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ بلوچستان میں ایک سینیٹر کا بھتیجا قتل ہو جاتا ہے اور پولیس گرفتار نہیں کر سکتی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ یہ بلائنڈ کیس تھا، تحقیقات کر لی گئی ہیں اور جلد ملزمان گرفتار کر لیے جائیں گے،ان کے مطابق ملزمان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیے گئے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ آئی جی سے بات کر کے بتایا جائے کہ کمیٹی کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا،سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے 13 ریڈز کیے جا چکے ہیں، کمیٹی نے حکم دیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے ایم پی اے کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
نادرا سے پاکستانی نژاد برطانوی شہری کا ڈیٹا چوری ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، شہری نے موقف اختیار کیا کہ نادرا سے ڈیٹا چوری ہونے کے بعد اس کا ڈیٹا انڈیا میں استعمال ہوا، اس نے آج تک پاکستانی پاسپورٹ پر سفر نہیں کیا اور نہ ہی کسی ایجنٹ کو پاسپورٹ دیا، وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ڈیٹا پاکستان سے ہی چوری ہوا ہو، مختلف ایئرپورٹس پر ڈیٹا کا تبادلہ ہوتا ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ نادرا نے افغان خفیہ اداروں کے افسران کو شناختی کارڈ جاری کیے، اس پر نادرا چیف کے دستخط تک موجود ہیں،ڈی جی پاسپورٹ نے کہا کہ 2023 کے بعد سے کسی شہری کا ڈیٹا چوری نہیں ہوا، پاسپورٹ نادرا کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر جاری ہوتا ہے۔
نادرا حکام نے بتایا کہ پہلے ڈیٹا میں تبدیلی ہو سکتی تھی، اب رد و بدل ممکن نہیں، اس حوالے سے جدید مانیٹرنگ نظام بنایا گیا ہے،ڈی جی پاسپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی بی کی زیر صدارت جوائنٹ ٹاسک فورس بنائی گئی ہے اور ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ڈارک ویب پر 500 روپے میں کسی پاکستانی شہری کا مکمل ڈیٹا خریدا جا سکتا ہے،ڈی جی پاسپورٹ نے بتایا کہ مختلف جرائم کی بنیاد پر 90 پاسپورٹ ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا۔
25سالہ احمد جاوید کے لاہور میں قتل کا معاملہ بھی کمیٹی میں زیر بحث آیا،مقتول کے والد عادل رشید نے کہا کہ ان کے بیٹے کی جوان بیوہ اور تین سالہ بیٹا ہے، ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی،100دن بعد قاتل گرفتار ہوئے،انہوں نے الزام لگایا کہ قتل کے بعد ایک ٹی وی چینل پر ان کے بیٹے کی کردار کشی کی گئی اور کہا گیا کہ وہ ڈانس پارٹی میں مارا گیا جبکہ قاتل کا ذاتی ٹی وی چینل ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ پانچ اکتوبر کو صبح 6 بجے ڈی ایچ اے کے احاطے میں واقعہ ہوا، مقتول کے والد نے پانچ افراد کو نامزد کیا تھا اور عبداللہ کھوکھر نامی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے،وزیر مملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد ہو چکا ہے، ملزم جسمانی ریمانڈ پر ہے اور پولیس مسلسل کام کر رہی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ یہ کیس نمٹا دیا جائے کیونکہ اب عدالت میں جائے گا، جب ضرورت پڑی تو وہ خود بھی پیش ہوں گے، کمیٹی نے مقتول کے والد اور وزیر مملکت کے اصرار پر کیس نمٹا دیا۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں شہریوں کے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان میں 10 لاکھ افغان شہریوں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں،افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔
سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ قومی شناخت کے جو کیسز نادرا بورڈ کے پاس زیر التواء ہیں، ان میں شہریوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ جن لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوئے وہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر جائیں، تصدیق کے بعد شناختی کارڈ کھول دیا جائے گا،وزیر مملکت نے کہا کہ مشکوک شخص کا نادرا بورڈ سے گزرنا ضروری ہے۔ کمیٹی نے نادرا کو پراسس جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
آن لائن فراڈ، ہتک عزت اور واٹس ایپ ہیکنگ کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس سے متعلق این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ1 لاکھ 57 ہزار شکایات موصول ہوئیں، گزشتہ عرصے میں 22 ہزار افراد کے واٹس ایپ ہیک ہوئے، فراڈ میں ملوث چار گینگ گرفتار کیے گئے اور کال سینٹرز کے خلاف کارروائی میں قانونی مسائل ہیں۔
ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 2 ہزار شکایات نمٹائی گئیں،وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ موجودہ ڈی جی این سی سی آئی اے اچھے افسر ہیں مگر ادارے کو مالی اور انسانی وسائل کی کمی ہے،واٹس ایپ سیکیورٹی فیچر میں تبدیلی سے ہیکنگ بڑھی ہے اور ادارے کو مضبوط بنانے پر کام ہو رہا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریس فراہم نہیں کیے جاتے اور سوشل میڈیا ادارے تعاون نہیں کرتے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر تعاون نہیں تو سوشل میڈیا اداروں کو پاکستان میں بند کر دیا جائے اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم چین کی طرح اپنا سوشل میڈیا نہیں لا سکتے؟ وزیر مملکت نے کہا کہ سوشل میڈیا بند کرنے پر اظہار رائے کا شور مچے گا، معاہدے موجود ہیں مگر تعاون نہیں ہو رہا۔
اسلام آباد میں ایم ٹیگ لگانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،سینیٹر دوستین خان ڈومکی نے کہا کہ ان کے پاس متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ گاڑی ہے جس پر ایم ٹیگ نہیں لگنے دیا جا رہا، کیا وہ یو اے ای کے شیخ کو لا کر ایم ٹیگ لگوائیں؟ ڈی سی اسلام آباد نے کہا کہ بیرون ملک رجسٹرڈ گاڑیوں کے پاکستان میں استعمال سے متعلق کوئی قانون نہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ آپ گاڑی مجھے دیں، میں اس پر سرکاری نمبر پلیٹ لگا دوں گا،چیئرمین نے پوچھا کہ ایم ٹیگ کی ذمہ داری کس کی ہے؟ وزیر مملکت نے بتایا کہ ایم ٹیگ کا ڈیٹا ایف ڈبلیو او کے پاس ہوتا ہے، اور اگر ڈیٹا لیک ہوا تو ذمہ داری ایف ڈبلیو او پر آئے گی۔
ایف بی آر کی تحویل سے سگریٹس کے 2828 کارٹنز چوری ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، سینیٹر طلحہ محمود نے الزام لگایا کہ سامان چوری ہوا اور ایف بی آر کے لوگ ملوث ہیں، اس معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایف بی آر نے پورے پاکستان کا بیڑا غرق کر دیا، کاروباری افراد کو کاروبار نہیں کرنے دیا جا رہا اور ان پر الزامات لگا کر حملے کیے جا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے اس معاملے پر ذیلی کمیٹی قائم کر دی، جس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر طلحہ محمود شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نیب کی جانب سے بینکرز سٹی ہاوسنگ سوسائٹی میں متاثرین کو 1.2 ارب روپے کی واپسی شروع