بھارت:35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار گہرے زخم کے نشانات ، والدین اور سکول انتظامیہ حیران

Feb 20, 2026 | 11:55:AM
بھارت:35 طلبہ کے ہاتھوں پر پراسرار گہرے زخم کے نشانات ، والدین اور سکول انتظامیہ حیران
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں واقع مڈل سکول میں پراسرار طور پر 35 طلبہ کے ہاتھوں پر گہرے زخم کے نشانات ہیں۔

 جس سے عوام کے انتظامیہ کو حیران کردیا ہے جبکہ طلبہ کی جانب سے اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی جا رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں دھمداہا سے ملنے والی ایک خبر نے نہ صرف لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

خبر نے معاشرے کے لیے ایک سنگین سوال بھی کھڑا کردیا ہے جہاں ایک یا دو نہیں بلکہ سکول کے 35 بچوں نے بلیڈ یا کسی نوکیلی چیز سے اپنے ہاتھ کاٹ کر خود کو زخمی کر لیا ہے۔

مڈل سکول میں پیش آنے والے اس واقعے کی خبر کے بعد پورے گاؤں کے لوگ صدمے اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں

 تاہم محکمہ صحت کے ڈاکٹروں اور محکمہہ تعلیم کے حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعہ چند ہفتے قبل اس وقت سامنے آیا جب ایک بچے کے والدین نے اس کے ہاتھوں پر زخم دیکھے۔

 جس پر انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی اور جب والدین نے اس حوالے سے بچے سے پوچھا تو انہوں نے وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔

والدین بچے کو سکول لے گئے، جہاں انہوں نے دیگر طلبہ سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ کئی اور بچوں کے ہاتھوں پر بھی اسی طرح کے زخم موجود تھے۔

مزید پڑھیں:الیکٹرک گاڑیاں گھر پر چارج کریں، سسٹم پاکستان میں متعارف

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب تمام بچوں سے انٹرویو کیا گیا تو مجموعی طور پر 35 بچوں کے ہاتھوں پر نوکیلی چیز سے لگے زخم کے نشانات پائے گئے۔

 یہ معلومات والدین اور اسکول انتظامیہ دونوں تک پہنچیں، جس کے بعد اسکول میں ہلچل مچ گئی۔

سکول انتظامیہ نے بچوں کے والدین کو اجلاس کے لیے طلب کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کم عمر بچے آئندہ اس طرح کے اقدامات نہ دہرائیں۔

 دوسری جانب والدین سخت خوفزدہ اور پریشان ہیں کہ آخر بچوں نے اپنے ہاتھ کیوں کاٹے جبکہ بار بار پوچھنے کے باوجود بچے اس کی اصل وجہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

واقعے کے بعد میڈیکل ٹیم، محکمہ تعلیم اور ماہرین نفسیات کی ٹیم نے اسکول میں بچوں اور ان کے والدین کے لیے خصوصی کاؤنسلنگ کا اہتمام کیا۔

 حکام نے اساتذہ کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ہر بچے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں۔

سکول انتظامیہ بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ بچوں نے اپنے ہاتھ کیوں زخمی کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ صرف ہاتھ کاٹنے تک محدود نہیں ہے بلکہ سکول کے تعلیمی نظام اور بچوں کی حفاظت سے متعلق بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 آخر بچے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، فی الحال اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔