ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف امریکہ میں 2600 ریلیاں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ‘نو کنگز’ کے نام سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
منتظمین کے مطابق ملک بھر میں 2,600 سے زائد ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
مظاہرین نے امیگریشن، تعلیم اور سکیورٹی پالیسیوں پر حکومت کے اقدامات کی مخالفت کی۔
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، بوسٹن کامن، شکاگو کے گرانٹ پارک اور درجنوں دیگر شہروں میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کئی مقامات پر مظاہرے ایک جشن کا سماں پیش کر رہے تھے، جہاں بینڈز نے موسیقی بجائی اور لوگ امریکی آئین کے دیباچے ‘وی دی پیپل’ والے بینر پر دستخط کر رہے تھے۔
مظاہرے امریکہ سے باہر بھی ہوئے، لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے اور اسپین کے شہروں میڈرڈ و بارسلونا میں درجنوں افراد نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔
یہ مظاہرے صدر ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد تیسری بڑی عوامی تحریک ہیں۔
حکومت کے شٹ ڈاؤن کے باعث عوامی ناراضی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ منتظمین نے خبردار کیا کہ صدر کا جارحانہ رویہ امریکہ میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنما چَک شومر اور سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی مظاہروں میں شرکت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی طاقت ہی آمریت کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت ہے۔
امریکی سول لبرٹیز یونین نے بتایا کہ ہزاروں رضاکاروں کو احتجاجی ریلیوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور تصادم سے بچنے کی تربیت دی گئی ہے۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنماؤں نے مظاہرین کو ‘مارکسسٹ’ قرار دیا اور کہا کہ یہ مظاہرے امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو مزید طول دے رہے ہیں۔
اسپیکر مائیک جانسن نے ان ریلیوں کو ‘ہیٹ امریکا ریلیز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ سرمایہ داری اور امریکی اقدار سے نفرت کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ اس دوران فلوریڈا میں موجود تھے، ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، میں بادشاہ نہیں ہوں، وہ غلط کہتے ہیں۔
برنی سینڈرز نے فیس بک پر پیغام میں ان مظاہروں کو ‘امریکا سے محبت کی ریلیاں’ قرار دیا۔