’’گڈ ٹو سی یو‘‘ کہنے والی سوچ کا راستہ روک دیا ہے:کھیل داس کوہستانی

Nov 19, 2025 | 00:24:AM
’’گڈ ٹو سی یو‘‘ کہنے والی سوچ کا راستہ روک دیا ہے:کھیل داس کوہستانی
کیپشن: پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ اب کوئی جج کسی حکومت کو نہیں گرائے گا، کسی منتخب وزیراعظم کو گھر نہیں بھیج سکتا جو ان کا آئنی کام ہے وہ کریں گڈ ٹو سی یو کہنے والی سوچ کا راستہ روکا گیا ہے۔

پروگرام ’’گونج‘‘ مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت چارٹر آف ڈیموکریسی میں شامل تھی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف، محترمہ بے نظیر بھٹو ،مولانا فضل الرحمان، عمران خان سب کی تائید اس کو حاصل تھی۔

انھوں نے کہا کہ 19 سال کے بعد ہمیں جا کر یہ موقع ملا ہے اور ہم نے اس کو آئین میں شامل کیا ہے، جب ایک جج منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجتا ہے جب کوئی جج کہتا ہے کہ آپ نواز شریف کا کیس میرے پاس لے کر آو میں نواز شریف کو نکالوں گا۔

اسی طرح گیلانی صاحب کو فارغ کیا گیا ،تو لازمی ہے کہ جب جج سیاسی ہو جائیں تو جس طرح صدر کا اختیار 58 ٹو بی ختم کیا گیا اسی طرح ضرورت محسوس ہوئی کہ ججز کا اختیار بھی ختم کیا جائے کیونکہ منتخب لوگوں کے خلاف فیصلے آ رہے تھے تو ہم نے اس کا راستہ روک دیا۔

اب کوئی جج کسی حکومت کو نہیں گرائے گا کسی منتخب وزیراعظم کو گھر نہیں بھیج سکتا جو ان کا آئینی کام ہے وہ کریں، گڈ ٹو سی یو کہنے والی سوچ کا راستہ روکا گیا ہے اب جو آئینی عدالت کا کام ہے وہ کریں گے اور جو سپریم کورٹ کا کام ہے وہ کریں گے۔ججز کے فیصلے بولتے ہیں لیکن یہاں ججز متنازعہ خط لکھتے ہیں اور وہ میڈیا کو پہلے دیتے ہیں سیاسی تقریریں کرتے ہیں تو یہ ان کا کام نہیں ہے ۔ہم نے جو پارلیمان کو با اختیار کیا ہے اس سے پالیمان کی بے توقیری نہیں ہوگی بلکہ پارلیمان کا وقار بلند ہوگا۔

پروگرام میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما حیدر زمان قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف کے لوگوں کے قول و فعل میں تضاد ہے، بیرسٹر گوہر خان ہوں یا سلمان اکرم راجا یہ لوگ پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے، کسی کمیٹی میں بیٹھ کر یہ اپنا قیمتی ان پٹ نہیں دیتے۔

دوسرا ان کا یہ بیانیہ کہ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی تھی غلط ہے کیونکہ انہوں نے تو کہا تھا کہ یہ مسودہ ہمارا ہے، سلمان اکرم راجا نے اسمبلی میں لہرا لہرا کر کہا تھا کہ ہم نے اس مسودے کو ہلکا کیا ہے، وفاقی آئینی عدالت کی جگہ آئینی ب ینچ ڈلوایا ہے۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو کہا کہ آپ ووٹ ڈالنے چلے جائیں ہم نہیں جائیں گے لیکن مسودہ ہمیں تسلیم ہے۔27ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی انہوں نے جمہوری رویہ اختیار نہیں کیا اگر کرنا ہوتا تو یہ ہر شق کی مخالفت میں ووٹ دیتے یہ لوگ بیچ کا راستہ نکالتے ہیں اور بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت بنانے کا خیال 2006 سے تھا اور اب اس پر عمل ہو گیا ہے ہو سکتا ہے کہ اس کے نتائج بہتر آئیں اور یہ عدالتوں میں چیلنج بھی ہو۔