حکومت نے قومی اسمبلی میں انشورنس بل 2026 پیش کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اشرف خان)حکومت نے انشورنس سیکٹر میں مقابلے، شفافیت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے قومی اسمبلی میں انشورنس بل 2026 پیش کر دیا، جس میں شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔
بل کے مطابق انشورنس سیکٹر کو مکمل طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ نیا قانون 25 سال پرانے انشورنس آرڈیننس کی جگہ لے گا۔
مجوزہ قانون کے تحت انشورنس کلیمز کی تیز ادائیگی اور تنازعات کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی انشورنس اور ری انشورنس کمپنیوں کو برانچ اسٹرکچر کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
انشورنس بل میں سرکاری املاک کی انشورنس میں نجی شعبے کو شامل کرنے اور نجی ری انشورنس کمپنیوں کو لازمی ری انشورنس میں مساوی مواقع فراہم کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
بل کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی ڈسٹری بیوشن ماڈلز اور انشورٹیک مصنوعات کو قانونی حیثیت دی جائے گی تاکہ جدید اور ڈیجیٹل انشورنس نظام کو فروغ مل سکے۔
ایس ای سی پی کے مطابق انشورنس کمپنیوں کے لیے بار بار لائسنس کی تجدید کے بجائے مستقل لائسنسنگ نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ پالیسی ہولڈرز کے کلیمز نمٹانے کے لیے سخت ٹائم لائنز مقرر کی جائیں گی۔
ایس ای سی پی نے انشورنس پالیسیوں کی گمراہ کن فروخت کے خلاف مؤثر اقدامات اور انشورنس کمپنیوں کے لیے رسک بیسڈ کیپیٹل فریم ورک اور سالوینسی مینجمنٹ نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی دی ہے۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کا کہنا ہے کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے مستحکم انشورنس سیکٹر ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا انشورنس بل شہریوں، کاروبار، صنعت اور زراعت کو بہتر تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کم لاگت اور تیز رفتار انشورنس خدمات ممکن بنائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے