ڈاکٹرز کی ہجرت روکنے کا مشن؛ پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی نشستیں بڑھانے کی سفارش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ڈاکٹروں کی بیرون ملک بڑھتی ہجرت روکنے کیلئے تربیتی ڈاکٹرز کا بڑا مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ کر لیا، ملک بھر میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی نشستیں بڑھانے اور سرکاری ہسپتالوں کو تربیتی مراکز بنانے کی سفارش کر دی گئی، صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملک میں میڈیکل گریجویٹس کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کی نشستیں نمایاں طور پر بڑھائی جائیں تاکہ ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک ہجرت روکی جا سکے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ملک بھر میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ٹریننگ کی نشستوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کے محکمہ صحت پر زور دیا ہے کہ میڈیکل گریجویٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر تربیتی مواقع میں توسیع کی جائے تاکہ اہل ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک ہجرت کے رجحان کو کم کیا جا سکے، پی ایم اینڈ ڈی سی کونسل کے 10 فروری 2026 کو منعقدہ اجلاس میں ملک میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تربیت کی مجموعی صلاحیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد صوبائی محکمہ صحت کو باضابطہ سفارشات جاری کی گئی ہیں تاکہ میڈیکل گریجویٹس اور دستیاب تربیتی مواقع کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کیا جا سکے۔
کونسل کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں انڈرگریجویٹ میڈیکل تعلیم میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں میڈیکل گریجویٹس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور بعض شعبوں میں ضرورت سے زیادہ گریجویٹس بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اس اضافے کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ تربیت کے باقاعدہ اور فنڈڈ مواقع میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں کیا جا سکا۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق اس صورتحال کے باعث ہر سال بڑی تعداد میں اہل ڈاکٹر محدود پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی نشستوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، خصوصاً سرکاری شعبے میں جہاں زیادہ تر تسلیم شدہ تربیتی پروگرام چلائے جا رہے ہیں، کونسل کے مطابق اصل مسئلہ میڈیکل گریجویٹس کی فراہمی نہیں بلکہ تربیتی نشستوں اور بعد ازاں روزگار کے مواقع کی کمی ہے، کونسل نے نشاندہی کی کہ یہی عدم توازن بڑی تعداد میں باصلاحیت ڈاکٹروں کی بہتر تربیت اور کیریئر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک ہجرت کی ایک اہم وجہ بن رہا ہے، پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت کونسل کو میڈیکل و ڈینٹل تعلیم اور تربیت کے معیار، منظوری اور رجسٹریشن کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں کے قیام، توسیع اور فنڈنگ کا اختیار آئینی و انتظامی طور پر صوبائی محکمہ صحت کے پاس ہے جو سرکاری اسپتالوں بشمول ٹرشری کیئر اداروں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کی نگرانی کرتے ہیں۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تفصیلی غور و خوض کے بعد کونسل نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ سرکاری شعبے کے صحت کے اداروں میں پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور جہاں ممکن ہو مرحلہ وار اور مالیاتی طور پر ذمہ دارانہ انداز میں ان نشستوں کو دوگنا کیا جائے، تاکہ انہیں میڈیکل گریجویٹس کی سالانہ پیداوار اور صوبائی صحت کی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز سمیت موجودہ سرکاری اسپتالوں کو اپ گریڈ کر کے انہیں پی ایم اینڈ ڈی سی کے معیار کے مطابق منظور شدہ پوسٹ گریجویٹ تربیتی مراکز کے طور پر ترقی دی جائے، ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ گریجویٹ تربیت کو شفاف اور میرٹ پر مبنی کیریئر ترقی کے نظام سے منسلک کیا جانا چاہیے تاکہ تربیت یافتہ ماہرین کو سرکاری صحت کے نظام میں برقرار رکھا جا سکے اور ثانوی و اعلیٰ سطح کی طبی سہولیات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کے مطابق پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں میں توسیع سے ناصرف ملک میں زیادہ تعداد میں میڈیکل گریجویٹس کو مواقع میسر آئیں گے بلکہ میڈیکل اداروں میں اہل فیکلٹی کی کمی کو بھی پورا کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ یہی تربیت یافتہ ڈاکٹر مستقبل میں تدریسی اور نگرانی کے اہم کردار ادا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ سفارشات وسیع تر عوامی مفاد کے تحت پیش کی گئی ہیں تاکہ افرادی قوت کے عدم توازن کو دور کیا جا سکے، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ ہو اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک ہجرت میں کمی لائی جا سکے، جبکہ اس عمل میں پی ایم اینڈ ڈی سی اور صوبائی حکومتوں کے قانونی اختیارات کا مکمل احترام بھی برقرار رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے وہ اضلاع جہاں آج عید منائی جائیگی