امریکہ میں چرسیوں کے اسلحہ رکھنے پر پابندی کے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آگیا

Jun 19, 2026 | 01:49:AM
 امریکہ میں چرسیوں کے اسلحہ رکھنے پر پابندی کے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آگیا
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  امریکہ میں چرس کے نشہ میں مبتلا افراد کے اسلحہ رکھنے پر پابندی ختم ہو گئی۔ اب چرس پینے والے بھی دوسرے امریکیوں کی طرح اسلحہ خرید سکیں گے۔

امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی۔ ٹیکساس میں میری یوانا ستعمال کرنے والے اب اسلحہ رکھ سکتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ نے بعض چرس استعمال کرنے والوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسسے پہلے وفاقی قانون کی تشریح یہ کی جاتی تھی کہ کوئی چرس پینے والا اسلحہ نہیں رکھ سکتا۔

 امریکیہ کی پریم کورٹ نے ایک متفقہ (9-0) فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف اس بنیاد پر کسی شخص کو اسلحہ رکھنے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ غیر قانونی  تصور کی جانے ووالی  چرس (میری یوانا) استعمال کرتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیئے:  کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی، پاکستان میں پٹرول، ڈیزل 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جائیں گے؟ 
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت جب تک یہ ثابت نہیں کرلیتی کہ نشہ کرنے والا شخص اس اسلحے کے باعث دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس وقت تک کسی پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

عدالت کے فیصلے سے وفاقی حکومت کے اس قانون کی تشریح محدود ہو گئی ہے جس کے تحت کسی بھی ممنوعہ منشیات کے غیر قانونی استعمال کنندہ کے لیے اسلحہ رکھنا جرم تھا اور اس پر 15 سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی۔

امریکہ میں وفاقی حکومت کی نافذ کردہ پابندی کے تحت کوئی شخص جو چرس استعمال کرنے میں ملوث ہو وہ اسلحہ نہیں رکھ سکتا۔ اب سپریم کورٹ  نے  چرس پینے والوں کو بھی اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک ججج نے اکثریتی رائے تحریر کرتے ہوئے کہا کہ صرف غیر قانونی منشیات کا استعمال کسی شخص کو خودکار طور پر خطرناک قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔

جج نے مزید لکھا کہ بعض حالات میں میری یوانا یا دیگر منشیات کا استعمال کسی شخص کو دوسروں کے لیے خطرہ بنا سکتا ہے لیکن اس مقدمے میں حکومت نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

جسٹس گورسچ کے مطابق اگر حکومت کو صرف کسی مخصوص گروہ کو "خطرناک" قرار دے کر اس کے تمام افراد سے اسلحہ رکھنے کا حق چھیننے کا اختیار دے دیا جائے تو اس سے امریکی آئین کی دوسری ترمیم میں دیے گئے اسلحہ رکھنے کے بنیادی حق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چرسیوں کو اسلحہ خریدنے کا حق دینے کا فیصلہ کس مقدمے میں آیا؟

سپریم کورٹ میں مقدمہ  ٹیکساس کے علی ہیمانی نے دائر کیا تھا۔ علی ہیمانی کا مؤقف تھا کہ وہ تقریباً ہر دوسرے دن  میری یوانااستعمال کرتے تھے جبکہ ان کے گھر میں ایک نائن ایم ایم پستول بھی موجود تھی۔ وفاقی حکام نے ان پر صرف اس بنیاد پر مقدمہ قائم کیا کہ وہ منشیات استعمال کرنے والے ہونے کے باوجود اسلحہ رکھتے تھے حالانکہ گرفتاری کے وقت وہ نہ نشے  میں تھے اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں  کوئی ہتھیار تھا۔

سپریم کورٹ نے زیریں عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں علی ہیمانی کے خلاف فردِ جرم کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا۔

چرسیوں کے اسلحہ رکھنے پر پابندی بہرحال رہے گی

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منشیات استعمال کرنے والوں کو  غیر مشروط اسلحہ رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے برقرار رکھا کہ منشیات کے عادی افراد پر اسلحہ رکھنے کی پابندی برقرار رہے گی۔ نشے کی حالت میں اسلحہ رکھنے پر پابندی بھی برقرار ہے۔

علاوہ ازیں ایسے افراد جو اپنے لیے یا دوسروں کے لیے خطرہ سمجھے جائیں ان پر بھی اسلحہ رکھنے کی ممانعت برقرار رہے گی۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ سابق امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن جیسے مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ اسلحہ رکھنے کے وقت منشیات کا عادی ہونے کا اعتراف کر چکے تھے۔

امریکہ میں میری یوانا کی قانونی حیثیت

 امریکہ کی 40 سے زائد ریاستوں میں ماریجوانا کسی نہ کسی شکل میں قانونی  ہے تاہم وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ منشیات میں شامل ہے۔ وفاقی قانون تمام ریاستوں میں نافذ العمل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  بچے ‘ جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ’ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ شرائط سامنے آگئیں