امریکی سائنس دانوں کی کینسر کیخلاف ’انقلابی‘ ویکسین تیار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )کینسر کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کی یونیورسٹی آف فلوریڈا کے سائنس دانوں نے ایک تجرباتی ایم آر این اے ویکسین تیار کی جو جسم کے مدافعتی نظام کو ٹیومر کے خلاف مزید مؤثر بناتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘ میں شائع ہوئی ہے، تحقیق کے مطابق جب اس ویکسین کو موجودہ علاج میں استعمال ہونے والی قوت مدافعت بڑھانے والی ادویات کے ساتھ استعمال کیا گیا تو چوہوں میں ٹیومر کے خلاف زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا۔
اس ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی خاص قسم کے کینسر یا پروٹین کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ مدافعتی نظام کو یوں متحرک کرتی ہے جیسے وہ کسی وائرس سے لڑ رہا ہو۔ یہ اثر ٹیومر کے اندر ایک خاص پروٹین پی ڈی-ایل ون کی مقدار بڑھا کر حاصل کیا گیا جس سے علاج کے اثرات مزید بہتر ہوئے۔
تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر الیاس سیور نے بتایا کہ ’یہ دریافت مستقبل میں ایسے طریقہ علاج کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں صرف آپریشن، ریڈیئیشن یا کیموتھراپی پر انحصار نہ کیا جائے۔‘
اس تحقیق کو امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور دیگر اہم اداروں کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔
اگر انسانی تجربات میں بھی ایسے ہی نتائج سامنے آتے ہیں تو یہ تحقیق ایک ایسی ویکسین کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو مختلف اقسام کے خطرناک اور لاعلاج کینسر کی اقسام کا مؤثر علاج بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر الیاس سیور کہتے ہیں کہ ’یہ ایک غیر متوقع دریافت ہے کہ ایک ایسی ویکسین جو کسی خاص ٹیومر یا وائرس کو ہدف نہیں بناتی، اگر وہ ایم آر این اے پر مبنی ہو، تب بھی کینسر کے خلاف اثر دکھا سکتی ہے۔