ایف بی آر نے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا 

Feb 19, 2026 | 20:07:PM
ایف بی آر نے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(کلیم اختر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ کر لیا،14 سے زائد کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے پوائنٹ آف سیلز یقینی بنانے کا حکم جاری کردیا گیا۔؎

 جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق  ہوٹلز ، ریستوران ، گیسٹ ہاوس ، میرج ہالز ، مارکیز ، ریس کلبز میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہےتاہم جہاں ایئر کنڈیشنر کی سہولت نہیں،انہیں پی او ایس سے چھوٹ ہوگی۔ 

شہر میں چلنے والی گاڑیوں کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دیا گیا ہے ،کوریئر اور کارگو سروسز ،بیوٹی پارلرز ، مساج سنٹرز اور پیڈی کیور سنٹرز کی آن لائن رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ 

ڈینٹسٹ ، فزیوتھراپسٹ ، پلاسٹک اور ہیئر سرجنز اور ویٹرنری ڈاکٹرز کو پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم جبکہ میڈیکل لیب ، ایکسرے ، سی ٹی ، ایم آر آئی اسکین سنٹر پر پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دے دیا گیا۔ 

پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا فیصلہ کیا گیا،500 روپے فیس لینے والے ہسپتالوں کو چھوٹ ہوگی۔

ہیلتھ کلبز ، جمز ، سوئمنگ پولز ، ملٹی پرپز کلبس،لاہور جمخانہ ، اسلام آباد کلب ، کراچی جمخانہ ، رائل پام لاہور ، چناب کلب  کے ساتھ ساتھ  تمام سول اور نان سول پولو کلب میں بھی پوائنٹ آف سیلز لگانے کا حکم دے دیا گیا ہے. 

چارٹڈ اکاؤنٹنٹس ، کاسٹ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس،ریٹیلرز ، مینوفیکچررز  اور امپورٹرز کے لیے بھی آن لائن انٹیگریشن لازمی قرار دیا گیا۔

فارن ایکسچینج ڈیلرز اور کرنسی ایکسچینج کمپنیز کے لیے پوائنٹ آف سیلز لگانے کی شرط لازمی جبکہ پرائیویٹ سکولز ، کالجز ، یونیورسٹیوں اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لیے بھی پوائنٹ آف سیلز کی شرط تاہم ایک ہزار روپے ماہانہ فیس لینے والے اداروں کو چھوٹ ہوگی۔ 

 نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ  مجوزہ قانون کے لیے 7 روز میں سفارشات جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:  چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیوروسارہ احمد نے رحیم یار خان میں قائم مرکز کو فعال کر دیا