چیف جسٹس عالیہ نیلم — بروقت انصاف کی ضامن
ملک محمد اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان کے عدالتی نظام کو سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ تاخیر اور پیچیدہ کارروائیوں کا رہا ہے۔ برسوں مقدمات لٹکنے سے عوام کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ لیکن لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس جسٹس مس عالیہ نیلم نے اپنے اقدامات اور اصلاحاتی وژن سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت ایماندار اور پرعزم ہو تو عدالتی نظام کو درست سمت دی جا سکتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی کاوشوں سے لاہور ہائیکورٹ میں 19 ستمبر کو ایک نہایت اہم اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری صدارت کریں گے جبکہ ملک کی تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل بھی شریک ہوں گے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس روزی خان بڑیچ کی شمولیت اس اجلاس کو مزید اہمیت دے رہی ہے۔اس اجلاس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام کو بروقت اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے عملی تجاویز اور پالیسی اصلاحات پر غور کیا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس طرح کا ہمہ جہت اجلاس پہلی بار چیف جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی کاوش کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں منعقد ہو رہا ہے، جو ان کے وژن اور انصاف پسندی کا ثبوت ہے۔چیف جسٹس مس عالیہ عالیہ نیلم پہلے ہی عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے چکی ہیں۔ آن لائن سماعتوں، ای-فائلنگ اور مقدمات کے ڈیجیٹل ریکارڈ جیسے اقدامات عوام کو سہولت دینے اور وقت بچانے کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔ کل کا اجلاس انہی اقدامات کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ ہوگا۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ہمیشہ خواتین اور کمزور طبقات کے مقدمات کو ترجیح دی ہے۔ کل کے اجلاس میں بھی توقع کی جا رہی ہے کہ ایسے طبقات کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی تجاویز سامنے آئیں گی۔ ،یہ حقیقت ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی قیادت میں عدلیہ میں ایک نئی روح پیدا ہو رہی ہے۔ عوام کو یقین ہے کہ اب انصاف صرف طاقتور کے لیے نہیں بلکہ ہر عام شہری کے لیے بروقت دستیاب ہوگا۔ لاہور ہائیکورٹ میں ہونے والا کل کا اجلاس اس بات کا اعلان ہے کہ اب عدلیہ عوام کی آواز سننے اور ان کے دکھ بانٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔