آسٹریلیا کی طالبان کیخلاف نئی پابندیوں کی تجاویز، ہیومن رائٹس واچ نے حمایت کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) آسٹریلوی حکومت کی جانب سے سنگین جرائم کے احتساب کیلئے طالبان کے خلاف نئی پابندیوں کی تجاویز سامنے آئی ہے۔
طالبان کے دور اقتدار میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شدت اختیار کر گئی ہیں جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے طالبان کے مظالم پر فیصلہ کن اقدام کی تیاری اور انسانیت کے قاتلوں پر عالمی شکنجہ سخت کیا جا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے آسٹریلوی حکومت کی جانب سے سنگین جرائم میں ملوث افغان طالبان پر پابندیوں کی تجویز کی حمایت کر دی، آسٹریلوی حکومت کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث طالبان کے خلاف پابندیوں کے قوانین میں ترامیم زیر غور ہیں۔
آسٹریلوی حکومت نے بتایا کہ نئے قوانین میں ترامیم سے افغانستان کیلئے مخصوص معیار متعارف کروائیں گے جبکہ سفری پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پابندیوں کی مجوزہ ترامیم انسانی حقوق کے مجرم طالبان کے احتساب کی جانب اہم قدم ہیں۔
آسٹریلیا میں عالمی تنظیم کی ڈائریکٹر ڈینیلا گاوشون کے مطابق حکومت کی جانب سے سنگین جرائم کے ذمہ دار طالبان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: ڈیفنس سے نئی نویلی دلہن کی پھندا لگی لاش برآمد
انہوں نے کہا کہ افغانستان پر قابض طالبان کی خواتین کے بنیادی حقوق پر قدغنیں جرمِ انسانیت اور صنفی ظلم و ستم کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین طالبان کے خواتین کے خلاف منظم مظالم کو صنفی تفریق قرار دے چکے ہیں، طالبان حکام نے سول آزادیوں کو محدود کرتے ہوئے صحافیوں و کارکنان کو حراست اور تشدد کا نشانہ بنایا۔