علی لاریجانی کون تھے؟ سفرزیست، جدوجہد اور سیاسی سفر پر ایک نظر

Mar 18, 2026 | 09:43:AM
علی لاریجانی کون تھے؟ سفرزیست، جدوجہد اور سیاسی سفر پر ایک نظر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اپنے صاحبزادے سمیت شہید ہوگئے جس کی ایران کی جانب سے باقاعدہ تصدیق کردی گئی ہے،ان کی زندگی،جدوجہداورسیاسی سفرپرایک نظرپیش کی جارہی ہے۔ 

 علی لاریجانی کے ایکس اکاؤنٹ پر آخری پیغام’’خدا کا ایک بندہ، خدا سے جا ملا‘‘شیئرکیاگیا,وہ عراق کے شہر نجف میں 3 جون 1958 کو پیدا ہوئے،ان کے والد ہاشم لاریجانی ایک سرکردہ شیعہ عالم تھے،شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے دباؤ پر ان کے والد 1931 میں نجف منتقل ہوگئے تھے لیکن 1961 میں ایران واپس آگئے،ان کے پسماندگان میں ان کی بیوہ فریدے مطہری، بیٹیاں سارہ لاریجانی، فاطمہ لاریجانی اور بیٹا محمد رضا لاریجانی شامل ہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے میتھمیٹکس اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی، جرمن فلسفی عمانویل کانٹ کے فلسفے پر وہ اکثرمضامین بھی لکھا کرتے تھے۔
67 سالہ علی لاریجانی نے ایران کی پاسداران انقلاب میں شمولیت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر نمایاں مقام حاصل کیا، وہ ایران کی داخلی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی میں طویل عرصے سے بااثر کردار ادا کر رہے تھے۔
علی لاریجانی ایران کے طاقتور مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ایران کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک تھے،وہ صدارتی سیاست میں بھی سرگرم رہے، متعدد بار صدارتی انتخابات میں بھی اہم امیدوار رہے۔
وہ  لگ بھگ5 عشروں سے ایران میں مختلف اہم عہدوں پر اہم خدمات انجام دیتے رہےتھے،  ماسوائے صدر کے علی لاریجانی نے تمام بڑے عہدوں پر خدمات انجام دی تھیں۔
علی لاریجانی سکیورٹی پالیسی کے معمار اور خامنہ ای کے قریبی مشیر سمجھے جاتے تھے، وہ ایران عراق جنگ کے سابق کمانڈر اور اہم سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے۔
علی لاریجانی نے بطور سپیکر 12 سال تک مجلسِ شورٰی کی قیادت کی، وہ ایران کے چیف مذاکرات کار برائے جوہری پروگرام بھی رہ چکے  تھے اور اوباما دور میں ہونے والی نیوکلیئر ڈیل کو اس ایشو پر بہتر ہم آہنگی کی بنیاد قرار دیا تھا۔
وہ اگست 2025 سے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ تھے، یہ کونسل ملک کے دفاع، انٹیلی جنس اور خارجہ پالیسی امور پر نظر رکھتی ہے،وہ اگست 2005 سے اکتوبر 2007 تک بھی اس عہدے پر خدمات انجام دے چکے تھے،اس کے علاوہ وہ وزیرثقافت بھی رہ چکےتھے ۔انہیںایران کی قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی سیاسی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔
علی لاریجانی کی جان کوخطرہ تھااور امریکا نے انکے سرکی قیمت بھی مقرر کررکھی تھی اس کے باوجودوہ القدس ریلی میں عام لوگوں کی طرح سڑک پر مارچ کرتے نظرآئے تھے،انہوں نےصدر ٹرمپ کی جانب سے سرکی قیمت مقررکیے جانے پر امام حسین کا قول سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئےلکھا تھا کہ ’’میں موت کو خوشی کے سوا کچھ نہیں اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو غم کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:خطے میں کشیدگی ؛مشرق وسطیٰ کے لیےآج بھی 83 پروازیں منسوخ
کچھ روزقبل انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ خلیجی ممالک جانتے ہیں کہ امریکا انکا وفادار نہیں اور یہ بھی کہ اسرائیل انکا دشمن ہے، اس لیے ایک لمحہ کو رک کراپنے بارے میں اور اس خطے کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔