امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

Jun 18, 2026 | 08:55:AM
امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک عبوری معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر امریکی پابندیوں میں نرمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی میں اضافہ متوقع ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 2.14 ڈالر (2.69 فیصد) کمی کے بعد 77.41 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 2.36 ڈالر (3.07 فیصد) کمی کے بعد 74.43 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔

 اماراتی مربن خاتم تیل کی 3.48 فیصد اضافے کے بعد 74 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 2 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی بھی 4 مارچ کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور کے مطابق سرمایہ کار اس امکان کو تیزی سے قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں کہ ایرانی تیل توقع سے زیادہ جلد عالمی منڈی میں واپس آ جائے گا، جس کے باعث تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔ 

 پاکستان میں قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
پاکستان میں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتیں 420 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھیں تاہم عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد اب ملک میں بھی عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی

 توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 79 سے 80 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہیں اور روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش موجود ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی ہوسکتی ہے۔

 بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت چاہے تو ٹیکسوں اور لیوی میں ردوبدل کے ذریعے عوام کو 50 روپے فی لیٹر تک کا ریلیف بھی دے سکتی ہے۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا  اپنی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گا جس کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے جمعہ کی شب نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔ 

 ماہرین کے مطابق اگر حکومت مکمل ریلیف منتقل کرتی ہے تو آئندہ قیمتوں کے اعلان میں 30 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان موجود ہے تاہم حتمی کمی کا انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کے نرخ، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر ہوگا۔