قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا اجلاس،حیسکو کے نقصانات اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر بحث

Sep 17, 2025 | 12:47:PM
 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا اجلاس،حیسکو کے نقصانات اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر بحث
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کے اجلاس میں حیسکو کے نقصانات،غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ،بجلی بلوں میں ریلیف اوراقساط میں ادائیگی پربحث کی گئی۔
محمد ادریس کی زیر صدارت ہونے والےقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کے اجلاس میں سیکریٹری پاور نے کمیٹی کو بتایا کہ ملتان اور لاہور ڈسکوز میں ریکوری 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ حیسکو میں ریکوری کے مسائل گورننس کی وجہ سے ہیں۔
 کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے جبکہ نیپرا نے 7 سے 8 گھنٹے اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی اجازت دی ہے، اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مزدور طبقے کے لیے بجلی کے بلوں کو اقساط میں تقسیم کرنے کا حل نکالا جائے۔
 سیکریٹری پاور حسین طارق نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکج پر کام جاری ہے اور ایک دو روز میں حکومت اعلان کرے گی،ایسا نہیں ہے کہ لاہور اور ملتان میں زیادہ ایماندار افسران بیٹھے ہیں،حیسکو میں بلوں کی ریکوری نہ ہونے کی وجہ گورننس کے مسائل ہیں، اگر حیسکو میں ریکوری نہیں ہو رہی تو آپ کی سرویلینس ٹیمز کیا کر رہی ہیں۔ 
 ممبر کمیٹی نوشین افتخارنے کہاکہ 30 ہزار کا بل ایک مزدور ایک ہی بار ادا نہیں کر سکتا،بل کو اقساط میں لینے کا کوئی نہ کوئی حل نکالیں۔
سیکریٹری پاور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ پاور سیکٹر سے پچھلے سال کی نسبت لوگوں کو ریلیف ملا ہے،200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا 6 سے 7 ہزار روپےکا بل آتا ہے، جس غریب آدمی کا بل 30 ہزار تک چلا جاتا ہے اس نے کئی ماہ سے بل نہیں دیا،نیپرا اور پاور ڈویژن کی جانب سے7 سے 8 گھنٹے اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی ہدایت ہے، پھر بتایا جائے کہ حیسکو کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے۔ 
سی ای او حیسکونے بتایاکہ بعض اوقات غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کچھ مسائل کی وجہ سے ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ای بائیکس رجسٹر کروائیں ،حکومت سے ہزاروں روپے پائیں
 ممبر کمیٹی حسین طارق نے کہاکہ  ان سے حلفاً بیان لیں کیونکہ یہ پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے ہیں،اگر ان کے بیان میں جھوٹ ہوا تو انہیں استحقاق کمیٹی لے جاؤں گا،سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے پر کام کر رہے ہیں، ایک دو روز میں سیلاب متاثرین سے متعلق ریلیف سامنے آ جائے گا، سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہیں،وزارت خزانہ کے ساتھ بھی ریلیف پیکج کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔