کالاش قبائل کا چیلم جوشٹ تہوار ختم ہو گیا، ہزاروں سیاحوں نے کالاش رسمیں دیکھیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) چترال میں کالاش قبیلہ کی تین وادیوں میں چیلم جوشٹ کا میلہ ختم ہو گیا۔ کالاش قبیلے کی سب سے بڑی ثقافتی تقریب چیلم جوشٹ کے جلوس میں ہزاروں کالاش مردوں اور عورتوں نے شرکت کی۔ خوبانی اور اخروٹ کے درختون کی شاخیں لہراتے ہزاروں افراد کا جلوس جشن مکمل امن اور خیریت کے ساتھ ختم ہو گیا۔
کالاش قبیلہ کے ہزاروں افراد نے پانچ روزہ چیلم جوشٹ تہوار کے آخری روز تین وادیوں مین سے مرکزی وادی بمبوریت میں جلوس نکالا۔ اس کا اختتام مرکزی رقص گاہ ’’چار سو‘‘ میں ہوا۔ چارسو میں کالاش مرد، خواتین، نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے مخصوص روایتی لباس میں ملبوس ڈھول کی تھاپ پر گھنٹوں اجتماعی رقص کرتے رہے۔
چیلم جوشٹ تہوار
نئے موسم کے آغاز کا تہوار چیلم جوشٹ پانچ روز جاری رہتا ہے۔ اس تہوار کے آخری روز کئی مذہبی رسوم ادا کی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں سرگرمی روایتی جلوس ہوتا ہے۔ آج نکالے گئے جلوس میں کالاش قبیلہ کے ایک ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔
جلوس میں شریکہر عمر کے مرد اور خواتین ہاتھوں میں خوبانی اور اخروٹ کی تازہ شاخیں اٹھائے مخصوص انداز میں انھیں لہراتے ہوئے رقص گاہ تک پہنچے۔ کالاش روایات کے مطابق خوبانی اور اخروٹ کی یہ شاخیں خوش حالی، امن، اچھی فصل اور نئے موسم کی آمد کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

جلوس کے دوران پورا علاقہ کالاشی زبان میں لگائے جا رہے روایتی نعروں، موسیقی کی آوازوں سے گونجتا رہا ۔شرکا انتہائی پرجوش دکھائی دیئے۔ سینکڑوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کئی گھنٹے تک رقص کرتے رہے۔
سیاحوں کی آمد
چترال کے جنوب میں واقع تین الگ تھلگ وادیوں میں آباد کالاش قبیلے کا روایتی اور مذہبی موسمِ بہار کا تہوار ’’چیلم جوشٹ‘‘ پانچ روز تک جاری رہا۔ اس تہوار کو دیکھنے کے لئے ملک بھر سے ہزاروں لوگ چترال آئے۔ رنگا رنگ ثقافتی سرگرمیوں، رقص، موسیقی اور مذہبی رسومات کا سلسلہ پانچ روز جاری رہا۔ اس دوران چترال کے ہوٹل کالاش ثقافت کو سمجھنے میں دلچسپی رکھنے والے سیاحوں سے بھرے رہے۔ آج یہ تہوار ختم ہو گیا ۔ آخری روز بھی سینکڑوں مرد و خواتین کالاش قبیلہ کی تقریب کو دیکھنے کے لئے موجود رہے۔

آج کالاش قبیلہ کی دو وادیوں رمبور اور بریر سے سینکڑوں کالاش باشندے بھی بمبوریت پہنچے تھے، تینوں وادیوں میں رہنے والے کالاش سال بھر میں کبھی کبھی ہی یکجا ہوتے ہیں۔ جب وہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو خوشی اور غم دونوں صورتوں میں ان کا جوش و خروش عروج پر ہوتا ہے۔
چیلم جوشت فیسٹیول کے دوران مقامی اور غیر ملکی سیاح کالاش وادیوں کا وزٹ کرتے رہے۔ سیاحوں کی غیر معمولی آمد کے باعث ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور مقامی افراد کی کرایہ پر دستیاب رہائش گاہیں بھری رہیں۔ مقامی کاروبار وں سے وابستہ افراد نے بھی اس سال سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری پر خوشی کا اظہار کیا۔

فیسٹیول کے دوران کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (کے وی ڈی اے) نے صفائی، پارکنگ، ٹریفک کنٹرول، سیاحوں کی رہنمائی اور دیگر سہولیات کے خصوصی انتظامات کئےتھے۔ سیاحوں اور کالاش قبیلہ کی آبادیوں کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی دیکھنے میں آئے۔
کے وی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل فدا الکریم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کالاش تہذیب دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی منفرد ثقافت، مذہبی رسومات اور روایات عالمی سطح پر خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یونیسکو کی جانب سے رواں سال کالاش وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور کو عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کیا جانا ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس کے بعد اس سال کا چیلم جوشٹ فیسٹیول مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: انڈونیشیا کے بعد ملائیشیا میں بھی چاند نظر آگیا
فدا الکریم نے امید ظاہر کی کہ یونیسکو کی مستقل فہرست میں شمولیت سے نہ صرف کالاش ثقافت کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ چترال میں سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔