اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے استعفیٰ دےدیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اسرائیل میں حکمران لیکود پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دان ایللوز نے پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سات اکتوبر کے حملوں کے بعد لیکود پارٹی کے ایک تہائی ارکان پارلیمنٹ یہ چاہتے تھے کہ نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ سے نکال دیا جائے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ کنیست کے رکن دان الوأز نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ مستعفیٰ ہو جائیں گے۔ دان ایللوزے الزام لگایا کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کو حالیہ متنازعہ قانون سازی کے جھگڑے کے دوران "ہائی جیک کر لیا گیا ہے" متنازعہ قانون سازی کو حکمران اتحاد نے کنیست میں آگے بڑھایا تو اس کا مقصد الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کو خوش کرنا تھا۔
دان ایللوز کا کہنا ہے کہ لیکود پارٹی کو ہریدی مفادات نے 'ہائی جیک' کر لیا ہے۔ استثنیٰ کے ڈرافٹ استثنیٰ کو پارلیمنٹ میں منظور کروانے کوششیں ایک 'بدنام' اقدام ہیں جس نے مجھ پر واضح کر دیا کہ میری جگہ اب لیکود میں نہیں ہے'
ایللوز نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا، "میں آپ سے ایسی پارٹی کو ووٹ دینے کے لیے نہیں کہہ سکتا جسے میں خود ووٹ نہیں دے سکتا۔"
انہوں نے مزید لکھا، "سچ یہ ہے کہ، 7 اکتوبر کے فوراً بعد، یہ سب پر واضح ہو گیا تھا کہ نیتن یاہو کو اپنی مدت ختم کرنی ہے۔" "عوام کے سامنے کھڑے ہوکر معافی مانگنے کے بجائے، لیکود ذمہ داری سے بچنے کے لیے سب کچھ کر رہی ہے۔"
کل استعفی کے اعلان کے بعد جمعرات کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں، ایللوز نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد، پارٹی کے تقریباً ایک تہائی قانون سازوں نے نیتن یاہو کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی۔
انہوں نے اسرائیلی نیوز ویب سائیٹ وائی نیٹ کو بتایا کہ "جب 7 اکتوبر جیسا کچھ ہوتا ہے، تو ایک ملک جو زندہ رہنا چاہتا ہے، معمول کے مطابق نہیں چل سکتا۔" "اس کی عکاسی قیادت میں بھی ہونی چاہیے، جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد، یہ بہت سارے لیکود ارکان کے لیے واضح تھا۔ میرے کچھ ساتھی، جو آج یہ دکھانے میں بہت مصروف ہیں کہ وہ نیتن یاہو کے کتنے قریب ہیں، پھر اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے کہ ہم اس (نیتن یاہو) کی جگہ کیسے لے سکتے ہیں۔"
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جب ایللوز سے اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہا گیا کہ کیا لیکود میں ایک گروپ موجود تھا جس نے 7 اکتوبر کے ہفتوں بعد "نتن یاہو کو بے دخل کرنے کی کوشش کی تھی؟"، اللوز نے کہا، "بالکل۔"
"میرے خیال میں لیکود دھڑے کا کم از کم ایک تہائی یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کی ریاست کے لیے صحیح چیز قیادت کی تبدیلی ہے،" انہوں نے کہا۔ "انتخابات کے ذریعے نہیں، کیونکہ ہم ایک شدید جنگ کے درمیان تھے، بلکہ عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے۔"
اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی اصل پوسٹ میں، ایللوز نے اپنی پارٹی پر تنقید کی اور کہا کہ ان کی پارٹی اپنے ووٹروں کے ساتھ مسلسل دھوکہ دہی کر رہی ہے۔
"7 اکتوبر کی ذمہ داری سے بچنے سے لے کر، الٹرا آرتھوڈوکس یشیوا سٹوڈنٹس کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ کرنے والی سکیموں کو فروغ دینے تک، جب کہ ہمارے ووٹرز کی تعداد گر رہی ہے، مفاد پرست گروہوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے جو ہم سب کے لیے روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرنچ پارلیمنٹ نےجان لیوا لاعلاج مرض کے مریضوں کو مرنے کی آزادی دینے کا قانون منظور کر لیا
ایللوز نے کہا، "(فوج میں لازمی سروس سے) استثنیٰ کے مسودہ کی کہانی ایک رسوائی ہے جس نے مجھ پر یہ واضح کر دیا کہ میری جگہ اب لیکود میں نہیں ہے۔"
اسرائیل کے قانون کے مطابق کنیست کے کسی رکن کے لئے لازمی نہیں کہ وہ اپنی پارٹی کو چھوڑنے کے ساتھ کنیست کی رکنیت بھی چھوڑ دے۔ گمان کیا جاتا ہے کہ دان ایللوز اپنی پارلیمنٹ کی رکنیت سے فوری طور پر مستعفیٰ ہونے نہیں جا رہے البتہ انہوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اب لیکود پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے آج شب ایران پر نئے حملے شروع کر دیئے
لیکود پارٹی کے ایک اور اہم رکن کا استعفیٰ
پارٹی کی اندرونی عدالت میں ایک جج نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ اسی وجہ سے پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ یہ لیکود پارٹی کے ایک اور اہم رکن عمانوئیل ویزر نہیں جنہوں نے عین انہی وجوہات کو لے کر استعفیٰ دے دیا ہے کہ نیتن یاہو اپنی پارٹی کو ہریدی فرقہ کے لوگوں کے فوج کی لازمی سروس سے بھاگنے میں مدد دینے والے متنازعہ قانون کو بلڈوز کرنے کی کوشش میں استعمال کر رہے ہیں۔
"میں امید کرتا ہوں، اور اس پر عمل کروں گا، تاکہ آنے والے انتخابات میں لیکوڈ کو کمزور کیا جائے اور دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور کیا جائے جن کی اخلاقی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ہریڈی بھتہ خوری کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گی،" لیکود کی داخلی عدالت کے ایک جج عمانوئل ویزر نے اپنے استعفیٰ میں لکھا۔
ویزر اور ایللوز کی رخصتی کنیست میں متنازعہ قانون کی منظوری کے ایک دن بعد ہوئی۔ جب کنیست نے اتحادی حمایت یافتہ ایک متنازعہ قانون کی منظوری دے دی جس میں فوجی خدمات سے بچنے والے الٹرا آرتھوڈوکس مردوں کی گرفتاری اور قانونی کارروائی پر عارضی طور پر پابندی عائد کی گئی تھی، اور اس طرح ہریدی فرقہ کے لوگوں کی فوج میں مسلسل عدم شمولیت کو قانونی حیثیت دی۔
اسرائیل کی ہائی کورٹ آف جسٹس نے بدھ کے روز ہی اس متنازعہ قانون کے نفاذ کو عارضی طور پر منجمد کرتے ہوئے حکم دیا کہ قانون سازی پر جلد از جلد سماعت کی جائے۔
ہریدی قانون سازی کا دباؤ 2024 میں ہائی کورٹ کی جانب سے متفقہ طور پر اس فیصلے کے بعد آیا ہ جس مین ہائی کورٹ نےحکم دیا کہ حکومت کو الٹرا آرتھوڈوکس یشیوا طلباء کو فوج میں شامل کرنا ہوگا کیونکہ انہیں فوج میں ملازمت سے چھوٹ دینے کے عشروں سے جاری عمل کو جاری رکھنے کے لیے کوئی قانونی ڈھانچہ موجود نہیں۔ ہائی کورٹ کے اس حکم پر عملدرآمد شروع ہوا تو ہریدی فرقہ کے لوگوں نے سخت مزاحمت شروع کر دی۔ ان کے فوج کی لازمی سروس میں جانے سے انکار پر فوج نے قانون کے مطابق ان کی گرفتاریاں شروع کین تو نیتن یاہو کی حکومت نے اپنے اتحادی انتہائی دائیں بازو کے لوگوں کو گرفتاریوں سے بچانے کے لئے متنازعہ قانون کے مسودہ پو پارلیمنٹ میں منظور کروانے کے لئے کوشش کی۔ اس قانون پر عملدارآمد ہو تو کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی فوج افرادی قوت کے شدید بحران میں مزید پھنس جائے گی جو تین سال سے مسلسل جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔
اس صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے دان ایللوز نے کہا، "جبکہ IDF بوجھ کے نیچے دبا ہونے کا انتباہ دے رہی ہے، لیکودنے ہریڈی پارٹیوں کے سامنے مسلسل ہتھیار ڈالنے کا انتخاب کیا اور فوج کی لازمی سروس سے فرار کو انسٹیٹیوشنلائز کرنے کے لیے منصوبے بنائے،" انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت، لیکود کے لیے ووٹ ہریڈی پارٹیوں Shas یا UTJ کے ووٹ سے "مختلف نہیں" ہے۔
"میں لیکود پرائمری میں نہیں امیدوار نہیں ہوں گا،" انہوں نے کہا۔
ایللوز کو بہرحال دوبارہ منتخب ہونے میں مشکل پیش آتی، کیونکہ وہ نئے تارکین وطن کے لیے مخصوص لیکود کی سیٹ کے ذریعے کنیست میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے- یہ ایک ایسا فائدہ تھا جو انہیں آنے والے الیکشن کے لئے پارٹی کی پرائمریوں میں دستیاب نہیں ہوتا۔
اب بہرحال وہ وہ لیکود پارٹی کے ڈیفیکٹرز کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، جس میں شامل تمام لوگ پارٹی کی جانب سے ہریدی ڈرافٹ سے استثنیٰ حاصل کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہیں۔