چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی )وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی جوشوگر سیکٹر میں اصلاحات اور نجکاری کیلئے قابل عمل تجاویز مرتب کرکے 30 روز میں وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیر توانائی کمیٹی کے چیئرمین جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کے سیکرٹری کمیٹی کے کنوینر ہوں گے،وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزیر اقتصادی امور کمیٹی کے ارکان ہوں گے،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت، سابق سیکریٹری رانا نسیم، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمر بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔
وزارت غذائی تحفظ و تحقیق، وزارت تجارت کے سیکریٹریز، چیئرمین ایف بی آر، پنجاب اور سندھ کے چیف سیکریٹریز، لیمز کے ڈاکٹر اعجاز نبی،اور لمز کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور حسن کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔
کمیٹی اجناس کے ذخائر، رسداور قیمت سے متعلق ڈیٹا کی درستگی کےتحت پالیسی سفارشات مرتب کرے گی،اس کے علاوہ کمیٹی کسانوں کے مفادات،صارفین کے حقوق،مقامی ضرورت،تجارتی تقاضوں کے تحت پالیسی اورقیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خطرے سے بچاؤ کیلئے پالیسی سفارشات مرتب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں سیلابی صورتحال ، وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
کمیٹی کے ضوابط کار (ٹی او آرز) کے مطابق کمیٹی وفاقی و صوبائی سطح کے تمام موجودہ قوانین،قواعد،ضوابط اور پالیسیوں کا جائزہ لے گی جن کا تعلق چینی کی پیداوار،درآمد،برآمد، قیمتوں کے تعین،سبسڈی اور ذخیرہ اندوزی سے ہے،کمیٹی نجکاری کے عمل کو شفاف اور مربوط بنانے کے لئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز، بشمول صنعت کاروں، کسانوں اور ریگولیٹری اداروں کے ساتھ مشاورت بھی کرے گی۔