بانی پی ٹی آئی کو مسلسل قید تنہائی میں رکھنا غیر آئینی ہے،علیمہ خان
کوئی سیاسی بات کرنے سے نہیں روک سکتا،عظمی خان۔نہ کوئی جج کی بات سنتا ہے نہ جیل کی، نورین خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ارشاد قریشی)بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو مسلسل قیدی تنہائی میں رکھا جارہا ہے ،یہ غیر قانونی اور غیر آئینی سلوک ہے ،یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہم اسی لیے یہاں پر احتجاج اور دھرنا دیے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ بانی کی بہن عظمی خان کا کہنا ہے کہ ہم انتظار کررہےہیں اگر وہ چاہیں تو رات کے بارہ بجے بھی ملاقات کروا سکتےہیں، میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ہوں، مجھے کوئی سیاسی بات کرنے سے نہیں روک سکتا ۔میں جو مرضی بات کہوں مجھے کون روک سکتا ہے۔نورین خان نے گفتگو میں کہا کہ نہ کوئی جج کی بات سنتا ہے نہ جیل کی ۔
تفصیلات کے مطابق علیمہ خان نے گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کوئی قانون نہیں توڑ رہے اور کوئی خلاف آئین اقدام نہیں کرے رہے ،لیکن یہ لوگ جنھوں نے بانی پی ٹی آئی کو مسلسل قیدی تنہائی میں رکھا ہے،ملکی اور عالمی قوانین کے خلاف ورزی کر رہے ہیں،کسی کو پانچ دن میں قید تنہائی میں رکھیں تو انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزی ہوتی ہے،انھوں نے دو ماہ سے زیادہ ہوگے ہیں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے ،اس دوران میری بہن کی ملاقات ہوئی ہے صرف مختصر دورانیے میں وہ بھی بیس بیس منٹ کی ،آپ اتنے زیادہ خوف زدہ ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو بند کردیں گے کہ عوام ان کو بھول جائیں گے، نہ ہم ان کو بھولیں گے اور نہ ان کو بھولنے دیں گے، صرف اس لیے کہ بانی پی ٹی آئی کا پیغام باہر نہ آئے،جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جاتی ہم یہاں پر موجود رئیں گے،سنا ہے کہ انھوں نے واٹر کینن اور دو بوزر بھی منگوائے ہیں ہمارے لیے ،پھینک دیں پانی ہم پے اور گرادیں ہمیں پھر کیا ہو جائے گا ہم زخمی ہو جائیں گے چوٹیں لگ جائیں گے، پانی پھینکیں کچھ بھی کریں یا دو بوزر اور لے آئیں ہم یہاں موجود ہیں ،کیا ہوگا ہم بھیگ جائیں گے آج ہم بندوست کر کے آئے ہیں ،آج ہم اضافی گرم کپڑے ساتھ لے کر آئے ہیں کارکن رین کوٹ بھی لائے ہیں،پانی پھینکیں گے شیل ماریں گے یا گولی چلائیں گے اور کیا کر سکتے ہیں یہ،ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں جان دے دیں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
عظمی خان نے گورکھ پور ناکے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہہم انتظار کررہےہیں اگر وہ چائیں تو رات کے بارہ بجے بھی ملاقات کروا سکتےہیں، میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ہوں مجھے کوئی سیاسی بات کرنے سے نہیں روک سکتا آذادی رائے کا مجھے حق ہے ،میں جو مرضی بات کہوں مجھے کون روک سکتا ہےجو میرے بھائی نے پیغام دیا وہ دوں گی،مجھے ملاقات سے ہہلے کسی نے کچھ نہیں کہا تھا اور نہ ہی مجھے کوئی کہہ سکتا ہے ،یہ غلط ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے مجھے کوئی ہدایت دی گئی تھی،اگر مجھے کوئی کچھ کہتا بھی تو میں نہیں سنتی مجھے باہر کسی نے کوئی ہدایت نہیں دی تھی،میں نے آخری ملاقات میں کونسی سیاسی بات کی؟؟عاصم منیر کے حوالے سے اگر بات کی تو کیا عاصم منیر سیاسی ہے ،عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ریاست چلتی ہے، ریاست عوام ہے ادراہ ریاست نہیں ،ہم بیٹھے ہیں ہم حق پر ہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
نورین خان نے گفتگو میں کہا کہ نہ کوئی جج کی بات سنتا ہے نہ جیل کی ،پہلے قید میں رہنے والے سیاسی میٹنگز کرتے پارٹی کرتے تھے سپرنٹںدنٹ کے کمرے میں کیک کٹتے تھے،یہ عمران خان کو تکلیف دے رہے ہیں تو کیا یہ بچ جائیں گے؟؟کبھی تو عدالتیں بھی کام کریں گی ان سب پر مقدمات درج ہوں گے جو یہ کررہے ہیں،اسوقت پنجاب پولیس ایک مجرم پولیس ہے دہشت گرد پولیس ہے،سندھ بلوچستان کے پی کے میں بھی پولیس ایسا نہیں کرتی ،ہم تو واپس جارہے تھے انہوں نے ہم پر پانی پھینکا اور گھسیٹا،پولیس اگر مجبور ہیں تو نوکری چھوڑ دیں ظلم اللہ کو پسند نہیں،اللہ پاک یہ نہیں کہیں گے کہ تم مریم نواز کا حکم مان رہے تھے،پہلے انہوں نے واٹر کینین استعمال کیا یہ بندوق بھی استعمال کر سکتے ہیں،یہ ظلم کرنے والی پولیس ہے ،یہ پولیس پنجاب کے لئے دہشت گرد بن چکی ہے،کس سے بات کریں ترامیم کے بعد عدالتیں ختم کر دی گئیں، عدالت کی بات یہ مانتے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید دھند، موٹروے ایم 3، 4 اور ایم 5 بند کر دی گئی