سرویکل کینسر سےروزانہ اوسطاً 11 خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں،اس سے کیسے بچا جائے ؟

شکیلہ جلیل 

Sep 16, 2025 | 21:22:PM
سرویکل کینسر سےروزانہ اوسطاً 11 خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں،اس سے کیسے بچا جائے ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین ایک ایسے کینسر کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں جسے محض ایک ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے؟ چھاتی کے کینسر کے بعد خواتین میں سب سے زیادہ پھیلنے والا کینسر ّ سرویکل کینسر ٗ ہے ۔ ماہرین کے مطابق، ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو اکثر اپنی علامات ظاہر کیے بغیر بڑھتا رہتا ہے اور جب پتہ چلتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ، خاص طور پر 15 سے 44 سال کی خواتین میں اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ دنیا کا واحد کینسر ہے جس کی روک تھام کے لیے ویکسین موجود ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈیٹا کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 6 ہزار خواتین اس مرض کا شکار ہو تی ہیں ا ور قابل افسوس امر یہ ہے کہ ان میں سے 3 ہزار کے قریب خؤاتین موت کے منہ میں چلی جا تی ہیں ،۔ اگر پاکستان کی بات کی جا ئے تو صرف سال 2023 میں پاکستان میں رپورٹ ہونے والے 4700 کیسز میں سے 3000 خواتین جانبر نہ ہو سکیں، روزانہ کی بنیاد پر ات کی جا ئے تو پاکستان میں روزانہ 8 خواتین سرویکل کینسر کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتی ہیں ،حالانکہ پاکستان میں بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق روزانہ اوسطاً 11 خواتین اس مرض کے باعث موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اسی پس منظر میں، پاکستان میں پہلی مرتبہ ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کا آغازۤ 15 ستمبر سے کیا گیا  ہے جو خواتین کی صحت کے شعبے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ 12 روزہ  اس مہم کے دوران 9 سے 14 سال کی بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے گی۔ اس کا مقصد ان بچیوں کو مستقبل میں ایک مہلک مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔عالمی ادارہ صحت پاکستان کے مطابق سرویکل کینسر دنیا بھر میں خواتین میں پایا جانے والا چوتھا سب سے عام کینسر ہے۔ صرف 2022 میں تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ لگ بھگ 3 لاکھ 50 ہزار خواتین اس بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔اس مرض کی سب سے زیادہ شرح کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں دیکھی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ویکسین، اسکریننگ اور علاج کی سہولیات تک رسائی میں شدید عدم مساوات موجود ہے۔ سماجی و معاشی عوامل بھی اس فرق کو بڑھاتے ہیں۔ 
سرویکل کینسر کی بنیادی وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کا مستقل انفیکشن ہے۔ تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین میں اس بیماری کا خطرہ دیگر خواتین کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سروائیکل کینسر کے کل کیسز میں سے تقریباً 5 فیصد ایچ آئی وی سے منسلک ہیں۔اس موذی مرض سے اپنی بچیوں کو بچانے کےلئے پاکستان نے  Gavi اور یونیسف کے ساتھ مل کر رواں ماہ ستمبر میں 1 کروڑ 30 لاکھ بچیوں کو یہ ویکسین دے رہا ہے، اور 2027 تک یہ تعداد 1 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ یہ ویکسین عالمی ادارۂ صحت کی منظور شدہ، محفوظ اور مؤثر ہے اور 150 سے زائد ممالک بشمول مسلم ممالک میں لاکھوں زندگیاں بچا چکی ہے۔ یہ دراصل بچیوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔"
HPV  ویکسینیشن مہم مقررہ مراکز، اسکولوں، آؤٹ ریچ سائٹس اور موبائل ٹیموں کے ذریعے چلائی جائے گی، تاکہ دور دراز اور محروم آبادیوں تک بھی رسائی ممکن ہو۔ یہ ویکسین تمام اہل بچیوں کے لیے مفت دستیاب ہوگی۔
یونیسف کے پنجاب میں معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے انچارج حبیب اصغرنے ویکیسن کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اور لوگوں کی غلط فہمیوں کا جواب دیتے ہو ئے کہا کہ ہمارے ہاں پہلے پولیو پر سوال آٹھتے رہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ یہ ویکیسن لڑکیوں کو بانجھ بنا دیتی ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں یہ ویکسین پچھلے 15 سال سے دی جا رہی ہے۔ کروڑوں لڑکیاں اور عورتیں یہ ویکسین لگا چکی ہیں۔ کہیں بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ ویکسین بانجھ پن پیدا کرتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور UNICEF نے اس ویکسین کو محفوظ اور مؤثر قرار دیا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ ویکسین مغربی ممالک یا کسی خفیہ فنڈنگ کے تحت دی جا رہی ہے تاکہ ہماری لڑکیاں ماں نہ بن سکیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ 
اس ویکسین کی فنڈنگ عالمی ادارہ صحت (WHO)، یونیسف (UNICEF) اور حکومت پاکستان کر رہے ہیں تاکہ خواتین کو کینسر جیسی جان لیوا بیماری سے بچایا جا سکے۔ یہ خالصتاً صحت اور بچاؤ کے لیے ہے، اس کا کوئی سیاسی یا خفیہ ایجنڈا نہیں۔
 عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر محمد آصف،چیف ہیلتھ آفیسر راولپنڈی  اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے فوکل پرسن ڈاکٹر جواد نے اس مہم کے حوالے سے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو یوں تو صحت کے بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر سرویکل کینسر ایک خاموش قاتل ہے جس کا علاج اس ویکسین میں ہے انہوں نے کہا کہ  یہ مہم پاکستان میں خواتین کی صحت کے لیے تاریخی ثابت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ سروائیکل کینسر کی نمایاں علامات میں رحم سے غیر معمولی خون کا آنا،جنسی اعضاء پر مسوں یا مہاسوں (Genital Warts) کا ظاہر ہونا،پیٹ کے نچلے حصے میں مسلسل درد ہونا ہے۔
اس مرض سے بچاؤ کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس مرض سے بچاؤ کے دو مؤثر طریقے ہیں:

باقاعدہ اسکریننگ (Pap Smear):
یہ ٹیسٹ رحم کے خلیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو وقت پر ظاہر کرتا ہے اور کینسر کی ابتداء میں روک تھام ممکن ہو جاتی ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ صحت راولپنڈی احسان غنی  نے کہا کہ یہ قومی سطح پر ایک تاریخی قدم ہے کہ اپنی بچیوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کےلئے اس ویکیسنیشن مہم کو کامیاب بنانا ضرور ہے ۔ڈاکٹروں، نجی اسپتالوں اور سول سوسائٹی کا کردار مہم کی کامیابی کے لیے کلیدی ہے۔ معاشرے میں ویکسین کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو دور کرنا ضروری ہے۔
نوعمر بچیوں کو ویکسین لگانا مستقبل کے کیسز کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔

ایچ پی وی ویکسین:
یہ دنیا کی واحد ویکسین ہے جو کسی کینسر سے بچاؤ کے لیے دستیاب ہے۔ دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں یہ ویکسین معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا حصہ بن چکی ہے اور اب پاکستان میں بھی اس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ویکسین سب سے زیادہ مؤثر 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے ہے کیونکہ 15 سال کے بعد وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ایچ پی وی ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ویکسین کے بعد معمولی اور وقتی اثرات سامنے آ سکتے ہیں جیسے:انجکشن کی جگہ پر درد یا سوجن،ہلکا بخار یا تھکن، چکر آنا یا وقتی بیہوشی۔شدید ردعمل نہایت کم پایا جاتا ہے، تاہم اگر کوئی غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

قومی سطح پر ایک تاریخی اقدام
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نےویکسینیشن کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی اور کہاکہ  "9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے یہ ویکسینیشن مہم ان کی آئندہ زندگی کو صحت مند بنانے کا اہم قدم ہے۔ میں تمام والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو لازمی ویکسین لگوائیں۔ منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ یہ ویکسین محفوظ، مؤثر اور ہماری بچیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔”

یہ بھی پڑھیں:اینڈی پائی کرافٹ کیخلاف تحقیقات مکمل،بھارتی عہدیداروں کیساتھ ملی بھگت کے ٹھوس ثبوت سامنے آگئے