وفاقی وزراءکے جنازوں پر بیانات بہت گھٹیا حرکت ہے،میں شہید میجر عدنان کے گھر جاؤں گا، گنڈا پور 

اگر کوئی شہداء پر غلط بات کرتا ہے، وہ خود ذمہ دار ہے ،ہم بانی کے بیان کیساتھ ہیں،کوئی فلاسفی جھاڑتا ہے تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں،میڈیا ٹاک

Sep 16, 2025 | 19:25:PM
 وفاقی وزراءکے جنازوں پر بیانات بہت گھٹیا حرکت ہے،میں شہید میجر عدنان کے گھر جاؤں گا، گنڈا پور 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشاد قریشی) وزیر اعلی کے پی کے علی امین گنڈا پور  نے کہا ہےکہ وفاقی وزراء کی جانب سے جنازوں پر بیانات دیئے گئے،میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ پر سیاست نہیں کرنی چاہیئے،یہ بہت گھٹیا حرکت ہے،میں شہید میجر عدنان کے گھر جاؤں گا،میں خود آرمی فیملی سے ہوں،میرے والد اور بھائی بھی آرمی سے ہیں ،اگر کوئی شہداء پر غلط بات کرتا ہے، وہ اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے ،ہم بانی کے بیان کے ساتھ ہیں اسکے علاؤہ کوئی فلاسفی جھاڑتا ہے تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

وزیر اعلی کے پی کے علی امین گنڈا پور نے  داہگل ناکہ پر میڈیا ٹاک کے دوران ایک صحافی کے سوال پر کہ ’’علی امین صاحب آپ فوجی شہداء کے جنازہ میں شریک کیوں نہیں ہوتے‘‘؟  کا جواب دیتے ہوئے کہا کہسیاست میں اب یہ حالت اگئی ہے کہ اب جنازوں پر سیاست ہو رہی ہے،میں یہاں پر نہیں تھا،کئی جنازے ہوں گے جن پر وزیراعظم نہیں آیا ہو گا،اب میں یہ بات کروں کہ وزیر اعظم کیوں نہیں آیا،ہمیں اس بات کا دلی دکھ ہے کہ سب ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے لئے جنگ لڑ رہے ہیں،اصل چیز ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ہمیں کیا پالیسی بنانی اور اقدامات کرنے ہیں ،بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ ملکر بیٹھیں ،میں شہید میجر عدنان کے گھر جاؤں گا،میں خود آرمی فیملی سے ہوں،میرے والد اور بھائی بھی آرمی سے ہیں ،میرے بھائی نے کارگل کی جنگ لڑی،وہ رات کو محاذ پر جاتا تو میری ماں روتی تھی ،وفاقی وزراء کی جانب سے جنازوں پر بیانات دیئے گئے،میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ پر سیاست نہیں کرنی چاہیئے،یہ بہت گھٹیا حرکت ہے

اس سوال پر کہ ’’پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلرز کی جانب سے پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کی جارہی ھے آپ اس کی مذمت کرتے ہیں‘‘علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم بانی کی بات کو فالو کرتے ہیں،اسکے علاؤہ جو بات کرتا ہے اس سے ہمارا تعلق نہیں۔ اگر کوئی شہداء پر غلط بات کرتا ہے، وہ اپنے کئے کا خود زمہ دار ہے ،9مئی ہماری پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں تھا خان صاحب نے بار بار منع کیا لیکن اسکے بعد اگر کسی نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی تویہ اسکا ذاتی اقدام ہے،ہم بانی کے بیان کے ساتھ ہیں اسکے علاؤہ کوئی فلاسفی جھاڑتا ہے تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔صحافی نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کا ٹویٹر کون ہینڈل کر رہا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ بانی کا ٹویٹروہی ہینڈل کر رہا ہے جن کو خان صاحب نے خود ایکسیس دی ہوئی ہے،ملاقات نہ دینے سے مسائل اور کنفوژن بڑھتی ہے اور کچھ ایسے بیانات آجاتے ہیں جسکی بعد میں خان صاحب کو وضاحت کرنا پڑتی ہے ،پاکستان اور اسکے مسائل کسی کو پرواہ نہیں ہے،جنگیں آنا پر لڑی جا رہی ہیں،جب جنگیں آنا پر لڑی جائیں تو انکا انجام برا ہوتا ہے کیونکہ قومی مفاد ایک سائیڈ پر ہو جاتا ہے اور ذاتی مفاد حاوی ہو جاتا ہے، میں اپنی پوزیشن بانی کے ساتھ واضح کروں گا وہ میرا لیڈر ھے، پی ٹی آئی ہینڈلرز ہم ہیں،ہم بانی کے جواب دہ ہیں،اب کوئی بندہ اپنا بیانیہ بناتا ہے،تو ان ہینڈلرز کے جواب دہ نہیں ہیں، 

بانی نے ہمیشہ شہداء،پاکستان،اداروں کی بات کی ہے،ابھی حال ہی میں ہماری بھارت سے جنگ ہوئی سب سے زیادہ سپورٹ ہماری پارٹی نے کی ہے ،باقیوں پارٹیوں کے پلے کچھ نہیں ہے،ہماری پارٹی نے فورسز کو بھرپور سپورٹ کیا،۔جتنی کوشش میں نے بانی کو باہر لانے کے لئے کی ہے،زندگء میں ایک بھی دن ایسا نہیں کہ بانی کی رہائی کے لئے کوشش نہ کی ،ملکی تاریخ کےبڑے مارچ اور جلسے کئے ہیں،کیا کوئی فوج کے علاؤہ ریاست سے لڑ سکتا ہے،خان صاحب نے کئی بار کہا میں تو مذاکرات کے لئے تیار ہوں تو بیٹھیں بات کریں ،بات اسی سے ہوگی جسکے پاس اختیار ہے،

ایک اور سوال پر کہ ’’خان صاحب اور آپکی پارٹی افغان مہاجرین کے حق میں کھل کر بولتے ہیں،لیکن یہی افغان پاکستان میں دہشتگردی،سنگین جرائم میں ملوث ہیں،اپ بتائیں کہ آنا کی جنگ کس کی طرف سے ہے‘‘ علی امین نے کہا کہ ہماری حکومت کو گرایاگیا کیا اسکے ذمہ دار افغان مہاجرین تھے،ہم پر جو مقدمات درج ہوئے یہ افغان مہاجرین نے کیا ہے۔افغان مہاجرین اور طالبان میں پہلے فرق کریں،آپ نے یہی سے بیٹھ کر کہا کہ یہ مجاہدین ہیں،پھر روس کے ساتھ جنگ لڑی،اپ کی پہلے انکو مجاہدین بناتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ دہشتگرد ہیں ،ایسے موقع پر انکو زبردستی بھیجنا مناسب نہیں وہاں پر حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں،یہ رویہ انسانی حقوق کے خلاف ہے ،ہم اپنے صوبے میں کوشش کر رہے ہیں۔ انکو عزت اورروایات کے ساتھ واپس بھیجیں،ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں،بانی کے دور میں دہشتگردی ختم ہو گئی تھی ،اب دوبارہ دہشتگردی دوبارہ اٹھی یے،کیوں اٹھی ہے، اس پر تو پہلے سوچو،آج ہم کہتے ہیں کہ آپریشن ٹھیک نہیں ہے، پہلے بیٹھو اپنی غلطیوں کو دیکھو اور اصلاح کرو ،اچھی سوچ اور نیت کے ساتھ آگے بڑھو،یہ نہیں ہو سکتا، میں فیصلہ کرکے بیٹھ جاؤ تو پھر بھلے ملک کا بھی نقصان ہو ،میں وزیر اعلی بنا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بات کی،مجھے کہا گیا کہ میرا کام نہیں ہے ،ہم انکے ساتھ بیٹھ کر جب بات کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ لوگ یہاں ملوث ہیں ،میں نے ساری افغان قوموں کے ساتھ جرگے کرکے ٹی او ارتیارکیے انکو دیئے لیکن 7ماہ سے جواب نہیں آیا،انکو پرواہ نہیں،حل نکالنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھا رہے ،یہ پالیسی چل رہی ہے وہ مجھے مارے گا ،میں انھیں ماروں گا ،یہ نمبر گیم ہے چلتی رہے گی ،ایسے کولیٹرول ڈیمیمج (اجتماعی نقصانات) ہوتا ہے،میرے لوگوں نے بڑا نقصان اٹھایا ہے،پہلے لوگوں سے وعدے کئے گئے، علاقے خالی کروائے گئے  ،واپسی کے وعدے پورے نہیں کئے گئے،گھروں اور جانی نقصان کا ازالہ نہیں کیا گیا ،اب مسئلہ یہ ہے عوام،حکومتوں اور اداروں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے ،جب آپکی عوام ہی آپ پر اعتماد نہیں کرے گی تو آپ جنگ کیسے جیتو گے۔

علی امین گنڈاپور  نےکہا کہدہشت گردی کے واقعات میں حالیہ اضافہ تشویشناک ہے،پارٹی اندرونی تقسیم کی وجہ سے ملاقاتیں روکی جارہی ہیں۔بیانیہ ساز لوگ جماعت کو کمزور کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کے اندر منافق لوگ موجود ہیں، ،بار بار ملاقات کی درخواستیں تھیں مگر روکا گیا،جھوٹے الزامات اور سیاسی پروپیگنڈہ ہمارے نقصان کا سبب ہے،بجٹ سے پہلے سیاسی دباؤ کے باعث بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایات درکار تھیں،سینٹ انتخاب میں نامزدگیاں اور تنازعہ جیسے پراپیگنڈہ پارٹی میں برقرار ہیں،باجوڑ میں شدید سیکیورٹی بحران کے باعث عوام کی نقل مکانی جاری ہے،باجوڑ حملوں میں فوجی، پولیس اور شہری شہید ہوئے۔علاقے کے 13 دیہات خالی کرائے جا چکے، واپسی عمل جاری ہے،مقامی قیادت نے آپریشنز اور انسٹیٹوشنز پر سوالات اٹھائے ہیں،بعض حلقے حالات کو دیکھ کر علاقے خالی کروائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اینڈی پائی کرافٹ کیخلاف تحقیقات مکمل،بھارتی عہدیداروں کیساتھ ملی بھگت کے ٹھوس ثبوت سامنے آگئے

ٹیگز: